عشقِ_سیدِ_عالم 14
حضور سیدِ عالم شاہِ آدم و بنی آدم رسول محتشم صلی الله علیہ وعلی وآلہ و اصحابہ و سلم کے حجرہ مبارک کے باہر یہ شعر آج بھی لکھا ہوا ہے
يــــا مــن تفجّـــرت الأنهـــارُ نابعةً
من إصبعيهِ فروّى الجيــشَ بالمــددِ
اے وہ ہستی جن کی انگلی سے پانی کے ایسے چشمے پھوٹے کہ پورا لشکر سیراب کر دیا
•یہ شعر سلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان عبد الحمید خان ثانی کے ایک قصیدے کا ہے•
حسان الھند احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں
اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹُوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
عثمانی سلاطین و عام عاشقِ رسول اور نہایت ادب کرنے والے لوگ تھے
اس شعر کے بعد ایک اور شعر ہے
جس میں سلطان اپنا عشق و عقیدہ بیان کرتے ہیں
إني إذا ســــامني ضيمٌ يُروِّعُنـي
أقولُ يا سـيدَ السـاداتِ يا سـنــدي
جب مجھے مصائب گھی کے ڈراتے ہیں تو کہتا ہوں
اے آقاؤں کے آقا اے میرے سہارا
كُن لي شفيعًا إلى الرحمنِ من زللٍ
و امنُنْ علـيَّ بما لا كان في خَلَــدي
الله رب العالمین کی بارگاہ میں میری شفاعت فرما دیں
اور مجھ پر احسان کریں
کیسے عشق بھرے عاجزی سے والے انداز میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کر رہے ہیں
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
وہ ایسے شہنشاہ ہیں کہ دنیا کے بادشاہ ان کے در پر بھکاری بن کر حاضر ہوتے ہیں
°°°بادشاہانِ جہاں جہاں فقیرانہ حاضری دیتے ہیں
سلاطینِ زماں جہاں جھاڑو دینے کو فخر جانتے ہیں°°°`
اللھم صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی لہ
سیدمہتاب_عالم# ✍️
