سرکاری نوکری آزادی اور غیر سرکاری غلامی ہے

حوادثِ_آخری_زماں 23

°°° اپنے بچوں کو غلام نہ بنائیں °°°

یہودی ایجوکیشن کے ڈگری ہولڈر کو گورنمنٹ کی نوکریاں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد مرنے تک مراعات دینا جانتے ہیں کس وجہ سے ہے؟
صرف نبوی تعلیم سے دور کرنے کی وجہ سے ہے

جب لوگوں نے دیکھا کہ نوکری اور پھر مرنے بلکہ موت کے بعد تک سہولیات انگریزی دجالی تعلیم سے ہی مل سکتی ہے تو ماں باپ نے نبوی تعلیم کو چھوڑ کر دجالی تعلیم سے بچوں کو بچھو بنا دیا
اس قوم میں کیا خیر ہوگی جو دینی تعلیم حسبِ ضرورت بھی حاصل نہ کر سکے اور دنیاوی تعلیم کہ ڈگری پر ڈگری حاصل کرے کہ کل کلاں کوئی ایک ڈگری تو کام آئے گی!
آپ خود تو اپنی زندگی آسان بنا رہے ہیں مگر اپنے بچوں کو غلام بنا رہے ہیں
پہلے زمانے میں دو طرح کے لوگ ہوتے تھے
غلام اور آزاد
آج جدید دور میں دینی تعلیم کو پیٹھ پیچھے چھوڑا تو آنے والے وقت حقیقی طور پر دو طرح کے لوگ ہوں گے
سرکاری ملازم یعنی آزاد اور عام آدمی یعنی غلام
گوکہ آج بھی یہ تصور موجود ہے مگر کم ہے مگر آنے والے وقتوں میں سرکاری ملازمین کی الگ کالونیاں خار دار تاریں اور سخت سکیورٹی میں آباد شہر ہوں گے جبکہ عام آدمی غلاموں کی طرح ان شہروں کے باہر بھٹکتے ہوں گے
جیسے آج بھی
ہمارے ملک میں کینٹ ایریا, واپڈا کالونی, اور دیگر سرکاری کالونیاں آج بھی غلامی اور آزادی کا واضح فرق بتا رہی ہوتی ہیں کہ عام عوام کا داخلہ منع ہوتا ہے
خار دار تاروں اور بلند و بالا دیواروں سے غلاموں کا داخلہ بند کیا ہوتا ہے
جدید غلامی اور آزادی کا مطلب سرکاری و غیر سرکاری نوکری ہے
آج آپ نے ان کمیوں کا گربیان نہ پکڑا تو آپ کے بچے غلام بن کر رہیں گے
نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد ہی یہی ہے کہ سرکاری ملازم حکومت کا پالتو اور حکومت دجالی نظام کی پالتو ہوگی جو اس نظام کو نہ مانے گ وہ دھکے کھائے گا غلامانہ زندگی گزارے گا
بڑے بڑے شہروں کی فصیلوں کے باہر سے بھوکا پیاسا حسرت سے اندر جھانکے گا
اور اس کی جھلک ہالی ووڈ کی فلموں میں بارہا دکھائی جاتی ہے کہ ایک شہر میں مخصوص لوگ رہتے اور باہر بھوک پیاس ہے یہ وہ لوگ جو گورنمنٹ کی بات تسلیم نہیں کرتے
وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے اگر آپ قبروں میں جا کر اپنی اولاد کو غلام نہیں دیکھنا چاہتے تو اولاً دنیاوی تعلیم کی فوقیت کو ختم کریں
نہ یزیدی فوج بنیں نہ کوفہ والے غدار بنیں
حسینی لشکر کے سپاہی بنیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top