آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 10
محمد بن زید جو کہ حسن بن زید کے بھائی اور امام حسن کے پوتے ہیں
ان کے حوالے سے
شیخ الاسلام حافظ ابو القاسم ھبۃ اللہ بن حسن اللالکائی طبری متوفی 418 کتاب مستطاب اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ میں نقل کرتے ہیں
ان کے سامنے ایک عراقی شخص نوحہ کرتا ہوا آیا(جیسا کہ شیعوں کا طریقہ ہوتا ہے تاکہ اہل بیت سے مخلص ہونے کا دھوکہ کریں)
اور° نوحہ کرتے کرتے اس نے سیدہ عابدہ زاہدہ طیبہ طاہرہ عفیفہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی برائی بیان کرنا شروع کر دی °
آپ نے ڈنڈا اٹھا کر اس کے سر پہ مارا اور اسکا دماغ نکال دیا اور قتل کر دیا
اپ کو کہا گیا یہ تو ہمارے شیعوں میں سے تھا
فرمایا
° اس بدبخت نے میرے جد کریم ﷺ کو معاذ اللہ دیوث کہا جسکی وجہ سے اس کا قتل لازم ہوگیا تھا تو میں نے قتل کر دیا °
اس روایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
اول کہ گستاخِ رسول کو موقع دیئے بغیر اور حاکم کے پاس لے جائے بغیر قتل کر دینا درست ہے اور امام حسن مجتبی کے پوتوں کا طریقہ ہے
اگرچہ ہم احناف کے نزدیک حاکمِ وقت یہ کرے گا
دوم کہ شروع سے اب تک رافضی سادات کو بھٹکانے بہکانے کی کوشش کرتے آئے ہیں
ظاہر میں آلِ رسول سے ہمدردی مگر اندر سے صحابہ و امہات المومنین سے بغض رکھتے آئے ہیں
لیکن پہلے زمانے کے سادات سمجھدار تھے
اہل بیت کے ساتھ صحابہ کی محبت بھی ایمان کا جزء سمجھتے تھے
مگر اب ان رافضیوں کا مسلسل آگ لگانا رنگ لاتا جارہا ہے
کہ اب بڑے بڑے آستانے مشائخ ان رافضیوں کی ہمدردی جو اصل میں بغضِ صحابہ ہے اس کا شکار ہوتے جا رہے ہیں
مگر یہاں ایک بات یاد رکھیں
ہم سنی ہیں منہ چڑھا کے اور باتیں کس کے دور ہوتے سادات کو مزید دور نہیں کرنا بلکہ حکمت کے ساتھ شرم و احساس دلا کر قریب سے قریب تر کرنا ہے
°°° بہت سے سادات اس سبب سے دور ہوگئے کہ بعض سنی تقابل کی فضاء قائم کرتے ہیں °°°
غور کیجئے اگر اس وقت کے سادات ان رافضیوں کو اپنا گروہ اپنے لوگ مانتے کہتے تھے تو آج کیا حال ہوگا
عافیت علمِ دین اور سادات کو اپنے اکابر کی تعلیمات حاصل کرنے میں ہے
جو اماں عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ عفیفہ پر بدکاری کی تہمت دھرے اس کا قتل واجب ہوتا ہے
وہ دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے
لہذا اپنی ماں کے گستاخوں سے دوستی نری بیغرتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
