الحب_و_العشق 47
مواقف میں قاضی عَضُد الدین الایجی متوفیٰ 756 ھجری نے فرمایا
تعلق النفس بالبدن تعلق العاشق بالمعشوق
نفسِ انسانی کا بدنِ انسانی کے ساتھ تعلق ایسا تعلق ہوتا ہے جیسے عاشق کا معشوق سے تعلق ہوتا ہے
اس پر شرح مواقف میں علامہ میر سید شریف الجرجانی متوفیٰ 816 ھجری فرماتے ہیں
عشقاً جبلیاً الھامیاً
یعنی وہ فطری الہامی عشق ہوتا ہے جو نفس کو بدن سے ہوتا ہے
❗شرح مواقف جلد 6 صفحہ 260 ❗
یعنی بلا اختیار ہوتا ہے
یہی وجہ ہے انسان اپنے کسی کسی عضو کو ناپسند نہیں کرتا
اپنے عیب کو برا نہیں سمجھتا اگر سمجھے بھی تو وہ معاملہ نہیں کرتا جو دوسرے میں یہی عیب ہو تو کرے گا
ایک حکیم سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہے انسان اپنے اندر کے عیب نہیں دیکھتا جبکہ دوسروں کے عیب دیکھتا ہے
حکیم نے کہا
لان الانسان عاشق لنفسه و العاشق لا يرى عيوب المعشوق
کیونکہ انسان اپنا عاشق ہوتا ہے اور عاشق معشوق کے عیب نہیں دیکھتا
اسی وجہ سے اپنا عیب عیب نہیں لگتا
اور جب کسی اور کو خود سے زیادہ اہمیت دے تو یہ عشقِ صادق ہوگا
اسی کو یک جاں دو قالب کہا جاتا ہے
کہ محبوب کی تکلیف سے اسے اذیت پہنچاتی ہے
من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے
یہ تب ہوتا ہے جب دو نفسوں میں اتنی قربت ہو جائے کہ میلوں دور رہ کر بھی ایک دوسرے کی اذیت محسوس کر سکتے ہوں
ایک کی خوشی و غمی کا اثر دوسرے کی روح پر میلوں دور رہ کر بھی ہوتا ہے
اور ایسا ہوتا ہے ضرور ہوتا ہے
بعض اوقات ماؤں کے دِلوں میں ہول اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں معلوم کرنے پر پتا چلتا ہے بچہ مصیبت میں ہے
سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ والدین سے سبز رنگ کی شعاعیں نکلتی ہیں جو بچوں کو تقویت دیتی ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہوں
اسی طرح حبِ صادق میں روحوں کی قربت کی وجہ سے جسموں کے میلوں دور ہونے کے باوجود خوشی غمی کا ادراک ہوتا ہے
کائنات میں ایسے علوم پوشیدہ ہیں جو کم ہی لوگوں پر آشکار ہوتے ہیں
روح و روحانیت کے علوم تو ناپید ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
