اسلامی_طرزِتربیت 159
اگر آپ کا دل تنگ ہوتا ہو
بے چین ہو بے قرار ہو تو اس قرآنی نسخہ پر عمل کریں میرا ذاتی تجربہ بھی ہے اور ایمان بھی ہے کہ دل کو سکون و راحت ملتی ہے
الله رب العزت نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی
وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ(97)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ
اور بے شک ہم جانتے ہیں تمہارا دل اُن کی باتوں سے تنگ ہوتا ہے تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ
❗سورہ الحجر ❗
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کی کثرت کرنا بے چین دل کو چین بے قرار کو قرار بے سکون کو سکون دیتی ہے
جب دل گھبرائے تو اس مبارک تسبیح کی کثرت کریں محسوس ہوگا تپتے صحراء میں یخ پانی برسنے لگا ہے
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
دوسرا نسخہ نماز ادا کرنے کا بیان فرمایا
گھبراہٹ میں نماز امن و عافیت راحت و اطمینان دیتی ہے
اصحابِ رسول نے ایک دوسرے کو کہا تو الله رب العزت نے ان کا کلام نقل کیا
حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِؕ
یہاں تک کہ جب ان پر زمین وسیع ہونے کے باوجود تنگ ہوگئی اور ان پر ان کی اپنی جانیں تنگ ہو گئیں تو انہوں نے یقین کر لیا کہ الله سے بچنے کی پناہ گاہ صرف الله ہی ہے
یعنی جب زمین تنگ ہو جائے ہر ایک کی نگاہیں جسم میں اترتی محسوس ہوں زمین پر اپنا آپ بوجھ محسوس ہو تو لا ملجا من الله الا الیہ تو یقین کریں کہ الله سے بچ کر الله ہی کی بارگاہ میں جانا ہی امن ہے
یعنی اس کی ناراضی سے ڈر کر اس کی رضا میں جانا ہے
الله کی بارگاہ میں جانے کا مطلب نماز پڑھنا ہے
تو دل گھبرا جائے
زمین تنگ ہو جائے یعنی لوگ دشمن ہو جائیں ان کی نگاہیں خود میں اترتی محسوس ہوں
اپنی جان خود پر بوجھ محسوس ہو
تو
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھیں
اور نماز کے لیئے کھڑے ہو جائیں
فاصبر ان وعد الله حق
صبر کر کہ الله کا وعدہ سچا ہے
اپنے سچے رب پر یقین کرو اور آسمان سے اترتے سکینہ و راحت کا انتظار کرو
ابن رجب حنبلی نے فرمایا
انتظار الفرج عبادۃ
مشکل ایام میں راحت کے دِنوں کا انتظار بھی عبادت ہے
صبر بھی عبادت انتظارِ راحت بھی عبادت تو تب تک تسبیح و نماز سے سکون پائیں جب تک پریشانی ختم نہیں ہوجاتی
سیدمہتاب_عالم
