تاریخِ_اسلامی 1
خشکی و تری پر مسلمانوں کو کس کی ضرورت ھے
ترکی مقولہ ہے
اگر سمندر کا کوئی شیر ہے تو وہ خیر الدین باربروسا ہے
دنیا کی تاریخ میں سمندر کی دنیا کا جیسا قائد خضر خیر الدین باربروسا آیا ایسا آج تک کوئی دوسرا نہیں آیا
عظیم سلطنت عثمانیہ کا عظیم امیر البحر یعنی سپہ سالار تھا
خیر الدین باربروسا کا سب سے عظیم کارنامہ ہزاروں مسلمانوں کو اندلس میں ہونے والے ظلم سے بچانا اور ان کا ایمان محفوظ کرنا تھا
کیونکہ جو مسلمان اندلس میں خلافت ختم ہونے کے بعد رہ گئے تھے ان کو زبردستی عیسائی بنا دیا جاتا تھا
خضر خیر الدین باربروسا نے ہزاروں کو وہاں سے نکال کر ایمان و جان کی حفاظت کی تھی
کیا آپ نے اس عظیم مجاہد کا جھنڈا دیکھا ھے؟
اس جھنڈے کے اسرار پر غور کیا ھے؟
زیرِ نظر تصویر خیر الدین باربروسا کے جھنڈے کی دونوں طرفوں کی ہے
ایک جانب
1_نصر من الله وفتح قریب آگے یا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکھا ہوا ھے
یعنی خلافت عثمانیہ کا عظیم قائد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیئے سمندروں میں پکارتا تھا
2_درمیان میں دو منہ والی تلوار مولا علی کی ذوالفقار بنی ہوئی ھے
یعنی خضر خیر الدین مولا علی سے بے پناہ محبت کرتا اور مولا علی سے مدد مانگتا تھا
3_تلوار کے دستے سے شمع روشن ہو رہی ہے یعنی اس تلوار کی بدولت ہر طرف عدل و انصاف کا اجالا ہوگا
4_تلوار کے چاروں طرف خلفاء اربعہ کے مبارک نام لکھے ہیں ابو بکر,عمر,عثمان,علی رضی اللہ عنھم
یعنی سب صحابہ سے محبت ایمان کا حصہ ہے!
5_ تلوار کے نیچے ستارہِ داؤدی ہے جو کہ قوت و طاقت کی نشانی ہے
یہاں ایک عام غلط فہمی دور کر دوں کہ ستارہِ داؤدی یہودیوں کی قومی مذہبی نشانی نہیں ہے بلکہ اسلامی فن تعمیرات اور سونے چاندی کے سکوں میں اس کا استعمال کثیر ہوتا رہا ہے
اب اٹھارویں صدی سے یہ یہودیوں کی خاص نشانی بن کر ابھرا ہے
جھنڈے کی دوسری جانب
6_لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لکھا ھے
7_ذوالفقار کے ساتھ پنجہ بنا ہے جو پنجتن پاک کی طرف اشارہ ھے
یعنی سلطنت عثمانیہ پر پنجتن پاک کا سایہ ہے
سلطنت عثمانیہ کے حکمران خالص سَچے سُچے سُنی تھے تھے
اھلِ بیت سے محبت کرنے والے اور صحابہ کرام کی تعظیم کرنے والے تھے
خضر خیر الدین باربروسا کے جھنڈے کے اشارے سنی الاعتقاد ہونے کا کا یقین دلاتے ہیں
اللہ رب العزت خضر خیر الدین باربروسا اور ان کے مجاہد دوستوں کے درجات بلند فرمائے
امت مسلمہ کو اس وقت ضرورت ہے ایسے ایوبی کی جو خشکی پر بیت المقدس آزاد کروائے
اور غزنوی کی جو سومنات کے بت توڑے
اور سمندر پر باربروسا کی جو بحری دنیا غیروں پر تنگ کر دے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ھے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

