تاریخِ_اسلامی 74
سب قوموں نے مسلمانوں سے سائنسی فائدہ لیا اور دھوکہ دیا
1102 سے 1109 پہلی صلبی جنگ میں لیبیا کے شہر طرابلس کا محاصرہ کیا گیا
1109 میں صلیبیوں نے طرابلس پر قبضہ کر کے تقریبا 35 لاکھ عربی کتب کو قرآن سمجھ کر جلا ڈالا
اور یہ ان کے پادریوں اور کسی بھی آفسیر کے ان پڑھ ہونے وحشی ہونے کی وجہ سے ہوا
کیونکہ اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ یہ 35 لاکھ قرآن کریم کے نسخے نہیں بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بے بہا خزانے ہیں
جن میں فلکیات و ارضیات و معاشیات و طب وغیرہ ہر طرح کی سائنسی کتب شامل ہیں
مسلمانوں نے تو اقوامِ عالم کو علوم و فنون کے بے شمار خزانے دیئے جبکہ اقوامِ عالم نے ہر بار نقصان پہنچایا
تین بار مختلف جگہوں پر اسلامی علوم و فنون پر مشتمل کتابوں جن کی تعداد لاکھوں میں تھی آگ لگا دی گئی
پہلی بار
1109 میں طرابلس پر صلیبی قبضے کی بعد لاکھوں کتب جلا دی گئیں
دوسری بار
1258 میں بغداد منگولوں کے ہاتھوں برباد ہوا بلا مبالغہ لاکھوں سائنسی مذہبی کتب کو جلا دیا گیا
تیسری بار
1492 میں اندلس کی تباہی میں لاکھوں کتب نذر آتش کر دی گئیں
پھر کہا جاتا ہے مولوی و اسلام علم کے دشمن ہیں
مسلمانوں نے وہ کتب جلائی ہیں جو شرک و کفر سے بھری پڑی تھیں اور جہاد بھی اسی اصول پر ہوتا ہے کہ جہاں شرک و کفر کی تعلیمات ہوں وہاں سے یہ سب ختم کیا جائے
°°° جبکہ جتنی کتب مسلمان علماء نے سائنسی شعبوں میں لکھی ہیں کسی قوم نے نہیں لکھی °°°
اس کی ایک جھلک اوپر بیان کی ہے!
آپ ذرا تصور تو کریں کہ بغداد و اندلس و طرابلس کی تمام کتب ایک جگہ جمع ہوں تو کیسا منظر ہوگا؟
اس میں ایک بات بڑی اہم ہے کہ مسلمان سائنس دانوں کی بے شمار کتب یورپین نے چرا لیں اور ان کے تراجم کر کے اپنے ناموں سے شائع کر رکھی ہیں
اور بے شمار پر آج بھی قبضہ کیئے بیٹھے ہیں یورپ و امریکہ کی لائبریریاں مسلمان سائنسدانوں کی کتابوں سے بھری پڑی ہیں
اور ہمارے نوجوان اپنے ہی آباء و اجداد کے علوم و فنون سیکھنے بھکاریوں کی طرح وہاں لائن میں کھڑے ہوتے ہیں
اس کی وجہ علماء نہیں حکام ہیں
علماء نے تو لکھ دی ہیں
حکمران عیاش و بد معاش نہ ہوتے تو یورپ آج بھی عربی بولتا اور اسلامی لباس پہنتا
کیونکہ مغلوب قوم غالب قوم کی نقالی کرتی ہے!
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
سیدمہتاب_عالم# ✍️
