آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 17
سیدنا عبادہ بن صامت فرماتے ہیں
کنا نبور اولادنا بحب علی ابن ابی طالب
ہم اپنی اولاد کا امتحان محبتِ علی سے لیا کرتے تھے
جب ہم دیکھتے کہ بچوں میں سے کوئی علی سے محبت نہیں کرتا تو ہم جان لیتے یہ ہمارا نہیں یہ زنا کی پیداوار ہے
❗مناقب الاسد الغالب لابن الجزری ❗
اس کے بعد امام جزری فرماتے ہیں
و ھذا مشہور من قبل و الی الیوم
یہ پہلے سے مشہور ہے اور آج بھی یہی معاملہ ہے کہ جو علی سے بغض رکھے گا زنا کی پیداوار ہے
اس کے بعد والی روایت میں ہے
شریک بن عبد اللہ فرماتے ہیں
اذا رأیت الرجل لا یحب علی ابن ابی طالب فاعلم ان اصلہ یھودی
جب تم کسی آدمی کو دیکھو جو علی سے محبت نہیں کرتا تو جان لو اس اصل یہودی ہے یعنی وہ یہودی خاندان سے ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے قرآن نے اعلان کیا
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍ
سخت مزاج پھر یہ کہ زنا کی پیداوار
حضور مصطفی جانِ رحمت مُعطیَ نعمت و رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس ہستی کو معیار بنایا ہے کہ اس سے محبت و بغض حلال یا حرام ہونے کی نشانی ہے وہ مولائے کائنات اسد الله الغالب امام المشارق و المغارب اخی الرسول و زوج البتول علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں
اب ایک اہم سوال ہے کیسے پہچان ہو کہ فلاں مولا علی سے محبت کرتا ہے یا بغض رکھتا ہے
اس کے کئی طریقے ہیں
ایک یہ پہچان بھی ہے کہ فضائل و مناقبِ علی چھپائے [چھپانا صفتِ یہود ہے اور اوپر گزرا کہ وہ یہودی النسل ہوگا]
اگر بیان کرے تو عامیانہ انداز میں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے یہ کوئی منفرد فضائل نہیں ہیں فلاں بھی اس میں شریک ہے فلاں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے
ایک پہچان یہ بھی ہے کہ بعض نام نہاد مذہبی حلیہ رکھنے والوں کی عمر گزر جاتی ہے بلکہ گزر رہی ہے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بیان کرتے ہیں اور کبھی ان کے منہ سے ان کے قلم سے جناب مولا علی مشکل کشاء کی شان کا لفظ نہ نکلا اگر نکلا تو وہی چونکہ چناچہ اگر مگر اور تقابل کی فضاء میں نکلا ہے
جن کی محبت ایمان ہے ان کی یاد میں بخل گویا عدمِ ایمان کی نشانی ہے
قرآن پڑھیں تفاسیر سامنے رکھ کر پڑھیں تو سب سے زیادہ آیات مولا علی کی شان میں اپ خود دیکھ سکتے ہیں
احادیث پڑھیں تو تمام صحابہ کرام میں سے زیادہ فضائل ان کے بیان ہوئے ہیں
اور جب قران و حدیث سے بیان کرنے کی باری آئے تو ڈندی مار دی جائے ایمان کی محرومی نہیں تو کیا ہے؟ کتمانِ حق نہیں تو کیا ہے؟ صفتِ یہود نہیں تو کیا ہے؟
بڑے علماء کہ گئے جتنی آیات و احادیث شانِ مولا علی میں وارد ہوئی ہیں کسی اور کے حق میں نازل نہیں ہوئی
یہ بغض کاہے کو پالے بیٹھے ہو کہ شانِ علی بیان کرنے سے شانِ شیخین کم ہو جائے گی
شیخین کریمین طیبین طاہرین امامین کی شان کسی اور صحابی کی شان بیان کرنے سے کم ہو جاتی ہے؟
یا آپ نے ان امامین کریمین کی افضلیت اتنی ہلکی سمجھ لی ہے کہ کسی اور صحابی کی شان بیان کرنے سے ان کی افضلیت کی بنیاد گر جائے گی؟
یہ تقابل کی فضاء وباء ہے
اس وباء نے غیروں کو تو قریب کیا لانا تھا اپنوں کو دور کر دیا ہے
وباء پھیلتی ہے اور بہت سے جسموں کا روحوں سے تعلق توڑ دیتی ہے
اس تقابل کی وباء نے اس صدی میں بہت زیادہ روحانیت کی روح سے تعلق تڑوا دیا ہے
اور یہ بھی دل سے پوچھیں کہ تفضیل کا بیان محبتِّ شیخین میں کر رہے ہیں یا بغضِ علی میں کر رہے ہیں؟
تفضیل شیخین بیان کرنی ہے تو شیخ الاسلام و المسلمین امام احمد رضا خان کی طرح کریں جیسا انہوں نے مطلع القمرین میں کیا کہ پہلے فضائل و مناقب و خواصِ علی بیان کیئے یعنی دور جاتے سنیوں کو قریب کیا اور غیروں کو اپنی طرف متوجہ کیا کہ دیکھو ہم ہیں علی والے پھر افضلیتِ شیخین بیان کی ہے
تقابل کی فضاء اور پھر عامیانہ لہجے روکھے انداز میں شانِ علی بیان کرنے سے نہ تو وہ امامین کریمین طیبین طاہرین جلیلین شیخین صدیق و عمر خوش ہوں گے نہ مولا علی کا فیض پا سکیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
