باز رہیں

ذاتی_مطالعہ 104

امام ابن الجوزی نے فرمایا

من سرّح لسانه في أعراض المسلمين واتبع عوراتهم أمسك الله لسانه عن الشهادة عند الموت

جو مسلمانوں کی عزت میں زبان کھولے گا (یعنی غیبت کرے گا) اور مسلمانوں کے عیب تلاش کرے گا تو الله رب العزت موت کے وقت کلمہ طیبہ پڑھنے سے اس کی زبان روک دے گا
❗بحر الدموع ❗
یعنی غیبت کرنا اور مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنا خوبیاں بھلا دینا ایسا خطرناک مرض ہے کہ موت کے وقت کلمہ طیبہ سے محروم کر دیتا ہے

مجھے بہت بار تجربہ ہوا کہ لوگ ہماری خوبیوں کو صرفِ نظر سے اپنے تئیں ہمارے جرموں پر نظر رکھتے ہیں جبکہ وہ ہم میں ہوتے ہی نہیں
یہ بغض و عناد اور حسد و کینہ اِن کو ہمیشہ اس بات پر ابھارتا ہے کہ ہماری کبھی خوبی بیان نہ کریں بلکہ صدا خود گھڑی ہوئی خامیاں یاد رکھتے ہیں

باز رہیں کہ ایسے گناہ سرزد ہوں جن سے موت کے وقت کلمہ طیبہ پڑھنے کی توفیق سلب ہو جائے
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top