ردِ_سائنسِ_جدیدہ 3
زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھومتی ہے
یا درست طور پر، ہر 23 گھنٹے، 56 منٹ اور 4 سیکنڈ میں
اور کروی زمین کا طواف، سائنس دانوں کے خیال میں، 24,898 میل (40.070 کلومیٹر) ہے
لہذا جب آپ تقسیم کرتے ہیں تو وقت کے لحاظ سے فاصلہ اس کا مطلب ہے کہ زمین 1037 میل فی گھنٹہ (1670 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے گھومتی ہے
اگر ہم فرض کریں کہ ایک ہیلی کاپٹر نے 5 کلومیٹر کی بلندی پر ہوائی اڈے کے ایک مخصوص مقام سے عمودی طور پر ٹیک آف کیا اور پانچ منٹ کے بعد پائلٹ نے اسی مقام پر لینڈ کرنے کا فیصلہ کیا تو کیا ہوگا؟
اور یہ نہ بھولیں کہ زمین 1037میل فی گھنٹہ رفتار سے گھومتی ہے
کیا خیال ہے کہ اگر فائٹر اڑے اور واپس اسی جگہ پر بیس منٹ میں واپس آ پائے گا؟؟؟
بات اصل میں یہ ہے کہ ایک جہاز نے سائنس کو جہاز بنا دیا ہے
پہلے سنا تھا زمین ایک طرح گھومتی ہے اب نئی چول سامنے آئی کہ زمین تین طرح گھومتی ہے
اور لا محدود فضاء میں کہکشاؤں کے ساتھ زمین بھٹکتی پھر رہی ہے
مطلب سبھی زمین والے بھٹکے ہوئے ہیں ان کم بختوں کے نذدیک
سیدمہتاب_عالم# ✍️

