المزاح_و_الظرافت 86
عبد الْملك بن إِبْرَاهِيم المقدسی کے فرزند مُحَمَّد بن عبد الْملك فرماتے ہیں
میرے والد مجھے مارنے کی نیت یوں کرتے تھے
نَوَيْت أَن أضْرب وَلَدي تأديبا كَمَا أَمر الله
جیسے مجھے الله رب العزت نے حکم دیا ویسے اپنے بیٹے کو ادب سکھانے کے لیئے مارنے کی نیت کرتا ہوں
فرماتے ہیں کبھی کبھار تو میں نیت کے الفاظ پورا ہونے سے بھاگ جاتا تھا
« طبقات الشافعية الكبرى ج ٥ ص ١٦٣ »
ملعوم ہوا کہ اسلاف ہر چھوٹے بڑے کام میں اچھی اچھی نیتیں کرتے تھے اور حکمِ الٰہی کو پیشِ نظر رکھتے تھے
یہ بھی معلوم ہوا بڑے بڑے ائمہ کو اپنے والدین سے مار پڑی ہے
یہ بھی معلوم ہوا جب مار پڑنے کا وقت ہو بھاگ جانا پرانا طریقہ ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے اپنے بڑے بیٹے حامد رضا خان کو سبق یاد نہ ہونے پر مارا تو ان کی والدہ یعنی دادی جان نے اعلی حضرت کو مارا کہ میرے پوتے کو کیوں مارتے ہو ؟
اعلی حضرت نے سر جھکا لیا اور عرض کیا
امی جان اگر آپ کو مجھے مارنے سے خوشی ملی ہے تو اور مار لیں
دادی جان بعض میں افسوس کرتی تھیں
میں نے اپنے فرماں بردار بیٹے کو کیوں مارا ؟
معلوم ہوا دادی نانی بچے کو بچاتے ہیں اور بعض اوقات بگاڑ دیتے ہیں
بہر حال اتنی لمبی نیت نہ کریں کہ بچے بھاگ جائیں
نحو میں اغراء و تحذیر کا سبق ہے وہ پڑھ لیں
تحذیر میں فعل عامل کا حذف کیا جاتا ہے کیونکہ وقت کی قلت ہوتی ہے
اب کوئی اتق الحیة یعنی سانپ سے بچو کہے گا تو اتنی دیر میں وہ حملہ کر دے گا تو صرف الحية کہتے ہیں
جیسے اردو میں سانپ سانپ اتنا کہتے ہیں
حلانکہ اصل میں ہوتا ہے وہ سانپ ہے اس سے بچو
تو اتنی لمبی عبارت کو مختصر کرتے ہیں تاکہ وہ حملہ نہ کر دے
اسی طرح بچے کو مارتے وقت مختص نیت سے کام لیں ورنہ شکار ہاتھ سے بھاگ جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
