اسلامی_طرزِ_تربیت 246
حارث بن قیس فرماتے ہیں
يعجبني من الورى كل طلق الوجه مضحاك فأما الذي تلقاه ببشر ويلقاك بعبوس يمن عليك بعمله فلا أكثر الله في المسلمين مثله
مخلوق میں سے مجھے ہنستا مسکراتا چہرہ پسند ہے
اور وہ کہ جس سے تم مسکرا کر ملو اور وہ منہ بنا کر ملے
اپنی عمل کا تم پر احسان کرے تو الله مسلمانوں میں ایسوں کی کثرت نہ کرے
❗ سراج الملوک للطرطوشی ❗
مسلمان سے بالمشافہ ملاقات ہو یا آنلائن مسکرا کر ملیں
اپنے غلیظ و سیاہ دل کے مطابق ری ایکٹ نہ کریں
جس میں مسلمانوں سے اپنائیت کی حس نہیں وہ آدمیت و انسانیت سے خارج ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
المؤمن إلف مألوف ولا خير في من لا يألف ولا يؤلف
مؤمن مانوس کرنے والا اور مانوس ہونے والا ہے اس میں کچھ خیر نہیں جو مانوس نہ ہو نہ کرے
سراج الملوک میں ہے
وإنما سمي آدم لأنه تألف من الجواهر والألوان
آدم علیہ السلام کا نام آدم اس لیئے رکھا گیا ہے کہ وہ جواہر و رنگوں سے مالوف و جمع کیئے گئے ہیں
اِدام کا لغوی معنی جمع کرنا ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں
آدم الله بينكما أي جمع الله بينكما
آدم الله بینکما اس کا معنی ہوتا ہے الله تم دونوں کو جمع کرے
تم دونوں میں الفت پیدا کرے
لفظ انسان بھی انس سے نکلا ہے جس کا معنی اجنبیت نہ ہونا اور اپنائیت محسوس کرنا
کیونکہ انسان وہی ہے جس سے دوسرا انسان اپنائیت محسوس کرے
معلوم ہوا انسانیت و آدمیت ہنس مسکرا کے ملنے میں ہے
ملتے ہی چیر پھاڑنے کو آنا تو درندوں کی صفت ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
