ادبِ سادات

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 7

امام شعرانی نے الانوار فی آداب الصحبۃ عند الاخیار میں اولیاء کرام کے طور طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی بیان فرمایا
ان کے آداب میں سے ہے کہ سادات سے بہر صورت محبت کرتے ہیں اگرچہ وہ نا پسند طریقے پر ہوں
(یعنی بد عمل یا بدمذہب ہوں)
بعض علماء کا فرمان ہے ہم چارپائی پر نہیں بیٹھتے جب سادات کرام زمین پر بیٹھے ہوں کیونکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک گوشت اور مطہر خون ان کے جسموں میں ہے
ایسا ادب ایسی سوچ کہاں سے لائیں جبکہ یہاں تو سادات کو بے فیض اور نسب سے بے فائدہ قرار دیا جاتا ہے
خدا کی قسم یہ بہت بڑی بات ہے اگر کوئی سمجھے تو

مزید فرمایا
ہر ولی کے مزار کی زیارت سے پہلے سادات کرام کی قبروں کی زیارت کی جائے
یعنی جس شہر میں سادات ہوں وہاں اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری سے پہلے سادات کرام کی قبور پر حاضری دینا اولیاء اللہ کا طریقہ ہے
الله الله امام شعرانی سنیو تمہیں ادب و احترامِ آل رسول سکھا رہے ہیں
ایک وقت تھا سنی نسبتِ رسول پر مر مٹنے والے تھے اور اب نسبتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلکا جانتے ہیں
ہند میں سیادت کو برہمن و برہمنیت سے تعبیر کیا جاتا ہے
یہی مرض پاکستان میں عام ہونے لگا
امام شعرانی اولیاء کرام کی بارگاہ میں حاضری سے بھی پہلے عام سادات کی حاضری ولیوں کو طریقہ بتاتے ہیں اور یہاں؟
اولیاء کرام حقیقت کی نگاہ سے سادات کے میں لہو خونِ رسول اور رگوں میں سیدہ فاطمہ کو دودھ دیکھتے ہیں
جبکہ آج کل لوگ ظاہری اعمال دیکھتے ہیں
تبھی وہ ولی اور یہ بے ولی ہیں
سادات کرام کا حق ان کی زندگی میں بھی ہے اور وفات کے بعد بھی امت پر یہ حق باقی رہتا ہے
آج کتنے لوگ حقوقِ آل رسول ادا کرتے ہیں؟
آٹے میں نمک سے بھی کم
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top