آپ احمق باپ ہیں یا عقلمند باپ ہیں

اسلامی_طرزِتربیت 192

مجھے ایک صاحب مشہور و معروف و ظاہری باعمل عالم کے بارے معلوم ہوا کہ حضرت کے نزدیک حج سے صغیرہ و کبیرہ گناہ حتی کہ حقوق العباد بھی معاف ہوجاتے ہیں
جو کہ سراسر جہالت و بے باکی ہے
در مختار میں ہے

اجمع اھل السنۃ ان الکبائر لا یکفرھا الا التوبۃ ولا قائل بسقوط الدین ولو حقا للہ تعالی کدین الصلاۃ و زکاۃ نعم اثم المطل و تاخیر الصلاۃ و نحوھا یسقط
اھل سنت کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ سوائے توبہ کے معاف نہیں ہوتے اور کوئی بھی عالم حج سے دَین (قرض وغیرہ) کے سقوط کا قائل نہیں ہے اگرچہ حق اللہ ہوں جیسے نماز و زکوٰۃ وغیرہ
ہاں سستی اور تاخیر کا گناہ حج سے معاف ہوجاتا ہے
(در مختار جلد 4 صفحہ 56)
اس پر علامہ شامی طویل بحث کر کے فرماتے ہیں
والحاصل کما فی البحر ان المسألۃ ظنیۃ فلا یقطع بتکفیر الحج للکبائر من حقوقہ تعالیٰ فضلا عن حقوق العباد
حاصل وہ کہ جو بحر میں ہے کہ یہ مسئلہ ظنی ہے حج سے قطعی طور پر حقوق اللہ معاف نہیں ہوسکتے تو حقوق العباد تو دور کی بات ہے
(جلد 4 صفحہ 59)
کیونکہ حقوق العباد کا معاملہ سخت ہے!
آپ ہزار حج و عمرے کر لیں حقوق العباد اس وقت معاف نہیں ہوں گے جب تک آپ حقدار کو اس کا حق نہیں دے دیتے
اگر حج سے گناہ کبیرہ و حقوق العباد معاف ہوتے تو کرپٹ لوگوں سے بڑا نیک کوئی بھی نہ ہوتا
عوام کا حق مارو چھینو , رشوتیں لو , ڈاکے مارو , ملکی خزانہ لوٹ لو اور ہر سال حج کر آؤ
لو جی گناہ معاف اور بندہ ویسے ہی ہوگیا جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا یعنی بے گناہ
ماں پر اولاد کی تربیت اور شوہر کے حقوق واجب ہیں
اور باپ پر بیوی کی حفاظت اور بچوں کی تربیت فرض ہے
جیسے اوپر بیان کیا کہ اگر حج سے حقوق العباد معاف ہوتے تو کماؤ اور اولاد پر لگاو والا کلیہ اپناؤ
مگر ان کی تربیت نہ کرو کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی؟
ہمارے یہاں کے اکثر باپ یہی کرتے ہیں
ملک کے دوسرے کونے میں ہیں یا ملک سے باہر بس پیسہ کما کر دینے کو اپنا حق ادا کرنا سمجھتے ہیں
جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے
مال و دولت سے اولاد کی تربیت نہیں خریدی جاتی بلکہ مال و دولت کی کثرت ہو اور ماں باپ کی توجہ نہ ہو تو اولاد ایک وقت آنے پر ماں باپ کو گھر سے ہی نکال دیتی ہے
اس سے پہلے کہ یہ وقت آئے مال و دولت کی کثرت کرنے سے ہاتھ کھینچ کر دینی تربیت پر خود توجہ دیں

روز ایک گھنٹہ آپ اولاد کو نہیں دے سکتے اور پندرہ سولہ گھنٹے اولاد کے لیئے گدھوں کی طرح کماتے ہیں تو آپ سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہے
وہ باپ جو اولاد کو یہ کہتا ہے میں دن رات تمہارے لیئے مسلسل محنت کرتا ہوں مگر وہی باپ اس پرفتن دور میں روز اولاد کو خصوصاً بچیوں کو ایک گھنٹہ نہیں دیتا احمق ہے
آپ باپ ہیں تو کیوں نہیں پوچھتے بیٹا کونسا موبائل ہے آپ کے پاس؟
کس نے دیا
اس میں کونسی ایپلیکشن ہیں؟
کونسی کیوں ہے
رہنمائی کریں
اس کا پیکج کونسا لگوا رکھا ہے؟
اتنا بڑا پیکج کیوں؟
کانٹیکٹ نمبر کون کون سے ہیں؟
انجان کون ہیں
کیا تعلق؟
وٹس ایپ , فیسبک , اور یوٹیوب پر کونسے گروپس جوائن کر رکھے ہیں؟
ان سے دینی کیا فائدے ہیں
آڈیو ویڈیو کالز کسے کسے کر رکھی ہیں؟
لڑکا ہے یا لڑکی ہے
دن کیسا گزرا؟
تاکہ وہ اپنائیت محسوس کرے
آج پریشان کیوں ہو؟
اگر پریشان ہو تو اسے خوش کریں
آج خوش کیوں ہو
خوش ہے تو وجہ پوچھ کر اس میں شامل ہو جائیں!
اور خصوصاً یہ بچیوں کے لیئے باپ کو ضرور کرنا چاہے
کیونکہ جب تک بچی آپ کے گھر ہے آپ کی ذمہ داری ہے آپ کی بچی ہے اور ننھی منی نادان سی بچی ہے
آپ شیر بن کر اس کی حفاظت نہیں کریں گے تو کتے بھونکنے اور کاٹنے کو تیار ہیں
آپ سوچیں اولاد کو اس طرح وقت دے کر عقلمند باپ ہیں یا احمق باپ ہیں
مال سے نہیں اپنے وقت سے ںچوں کی تربیت کریں
اور یہ پوچھ گچھ باپ کی موثر ہوتی ہے ماں تو نرم دل کی اور پردے ڈالنے والی ذات ہے
تربیت نرم نہیں سخت مراحل سے ہوتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top