الحب_و_العشق 43
عرب کے مفکر الرافعی نے کہا
واعلَمْ أنَّ الحُبَّ ليسَ بِأنْ يَكونَ المَحبُوبُ بِلا عُيُوبٍ
وإنَّمَا الحُبُّ أنْ يَظَلَّ المَحبُوبُ بِرغمِ عُيُوبِهِ مَحبُوب
اس بات کو سمجھ لو کہ مَحبت یہ نہیں کہ محبوب عیب سے پاک ہو بلکہ مَحبت تو یہ ہے کہ محبوب عیب دار ہونے کے باجود محبوب ہی رہے
مَحبت کیونکہ ظاہری طور پر بلا وجہ ہوتی ہے تو کسی وجہ سے ختم بھی نہیں ہوتی
یہ بڑا اہم نکتہ ہے سمجھ لیں ہزاروں مسائل حل ہو جاتے ہیں
سبب پر کھڑی عمارت سبب کے زوال سے دھڑام سے گر جاتی ہے
شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں
كل حب يعرف سببه فيكون من الأسباب التي تنقطع لا يعوَّل عليه
ہر محبت جو سبب سے جانی جائے تو وہ منقطع ہونے والے اسباب میں سے ہوتی ہو اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا
یعنی سب پر قائم کوئی محبت معتبر نہیں ہے
تو عیوب کا نہ ہونا خوبیوں کا ہونا یہ محبت کی شرائط میں کبھی نہیں رہا
محبت وہی ہے جو عیوب سمیت ہو اور بلا وجہ ہو
> یہ جو محب و محبوب جھگڑتے ہیں بے رخی کرتے ہیں اور پھر شکوے کرتے ہیں یہ جو ایک دوسرے پر اپنا حق جتاتے ہیں یہ صرف ایک دوسرے کے عادی ہوتے ہیں محبت کی میم سے واقف نہیں ہوتے
بس ضد باز ہوتے ہیں کہ حاصل کرنا ہی کرنا ہے محبت کے آداب و قوانین سے جاہلِ مطلق ہوتے ہیں
عیوب و غربت و بلا خوبیوں کے ساتھ کسی کی ذات کو اپنی ذاتی پر مقدم کرنے کا نام محبت ہے جو کہ آج کل عنقاء ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
