یورپ کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت

اسلامی_سائنس 10

ہم کب اور کیسے شاندار ماضی جیسی عظیم قوم بنیں گے

اسپین کے شہر میں Seville جس کو عربی میں اشبیلیہ کہتے ہیں
میں موجود بظاہر منظر سے سے
آپ کو کیا نظر آرہا ھے
ایک خوبصورت مینار
دراصل یہ دو قوموں دو تہذیبوں دو مذہبوں کے عروج زوال عقل و فھم کی کہانی بیان کرتا تاریخی مینار ھے

امریکی مورخ جوناتھن لکھتا ھے کہ
جب 1248 میں اسپین کے شہر اشبیلہ موجودہ نام sievilla کو عیسائیوں نے مسلمانوں سے چھینا اورمسلمانوں کا قتل عام کیا شہر کو اجاڑ کے رکھ دیا اس وقت کے سب سے ترقی یافتہ جدید شہر پہ قبضہ کرنے کے بعد عیسائیوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ
یہ مینار اصل میں کیا شے ہے اور اس کا اب کیا کرنا ھے
انہیں کچھ اور سمجھ نہیں آئی انہوں نے اس
عظیم سائنسی شاہکار
ظلمت دور کرتی فنکاری کو
محافظ سپاہیوں کی قیام گاہ بنا کر تیر انداز کھڑے کر دیئے
جبکہ یہ مینار یورپ کے جہالت بھرے ماحول میں پہلی رصد گاہ تھی
یعنی یہاں چڑھ مسلمان سائسندان
فلکیات ستاروں فضاؤں ہواؤں خلاؤں کا مشاہدہ و تجربات کرتے تھے
عیسائیوں کو سائنس کی ذرہ سمجھ نہ تھی تو انہوں نے اس مینار کو فوجی چھاؤنی بنا دیا
اور اب ھم ان فرنگیوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں

جلال ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چکمتا
کہ ہو جیسے خاک میں کندن دمکتا

مینارِ اشبیلیہ کا موجودہ نام Lagiralda ھے

اور یہ نام اس کے اوپر رکھی دیوی کی کی مورتی کی وجہ سے جو یورپین کے ہاں فتح کی دیوی ہے

انتہائی تعجب کی بات ہے کہ جب یہ بنایا گیا تھا اُس وقت اسکی بلندی 122 میٹر تھی

قدیم دنیا کا کوئی مینار اتنا بلند نہیں رہا
آپ اس مینار کی بلندی کو یوں سمجھیں کہ مینار پاکستان جو جدید دنیا کا مینار ہے اسکی بلندی بھی اس وقت 70 میٹر ھے
اندلسی مسلمانوں کے پاس ایسی کونسی ٹیکنالوجی تھی جو انہوں نے صدیوں پہلے 122 میٹر بلند مینار کھڑا کر دیا

اور وہ بھی بقول یورپی جھوٹے مورخین کے مطابق صرف ایک مسجد کا مینار بنا کر؟
آج اس جدید دور میں بھی کسی مسجد کا مینار 122 میٹر بلند نہیں ہے
یورپین ایسے بہت سے جھوٹ بولتے ہیں اسی لیئے ہم بار بار کہتے ہیں کہ یورپی مورخین کی جھوٹی تاریخ چھوڑ کر مسلمان مورخین کی کتابوں کو پڑھیں تاکہ ذہن سے احساس کمتری مٹے اور جب ذہن سے جمود چھٹے کا تو کچھ کرنے کا حوصلہ بھی پیدا ہوگا!

جب مسلمانوں نے پڑھنا ہی یورپ کا دیا گیا نصاب ہے

جب پڑھنا ہی یورپ کا لٹریچر ہے
تو یقین کریں
نہ زھراوی پیدا ہوگا نہ رازی آئے گا نہ الجزری پیدا ہوگا نہ البیرونی نظر آئے گا
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں سے یورپ نے علوم حاصل کیئے ہمیں بھی وہیں سے حاصل کرنا ہوگا تبھی کامیاب ہوں گے ورنہ ذلت مقدر ہے اور رہے گی

اور مسلمانوں نے قرآن سے علوم حاصل کییئے
مسلمان کسی سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ سینہ تان کر علوم ایجاد کیئے ہیں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top