یورپ میں عربی زبان کا جنون

تاریخِ_اسلامی 55

کبھی یورپ عربیوں کی نقل کرتا تھا

علامہ ابن خلدون اپنے مشہور زمانہ مقدمہ فصل 23 میں انتہائی عجیب و غریب شے بیان کی ہے
مغلوب قوم غالب کی نقالی کرتی ہے
°°° اندلس میں اسلامی عروج کے دور میں جرمنی, اٹلی, برطانیہ, فرانس سے یورپی نوجوان مسلمانوں کے شہروں میں جدید علوم سیکھنے آتے تھے °°°
اور جب علم سیکھ کر واپس جاتے تھے تو اپنے ہم عمروں پر فخر کرتے تھے کہ ہم اندلس سے علم پڑھ کر آئے ہیں

{جس طرح آج مسلمان یورپ سے پڑھنے کو فخر سمجھتے ہیں}
اور وہ یورپی نوجوان اپنی زبان میں عربی کے الفاظ ملا کر بولتے تھے یہ دکھانے کے لیئے کہ ہم پڑھے لکھے ہیں اور تم جاہل ہو
{ جس طرح آج مسلمان اپنی مادری زبان میں انگلش ملا کر بولتے ہیں تاکہ اپنی برتری ثابت کریں }
جرمن مورخہ جرمن سگریڈ ہنکے تو مزید حیران کن بات کہتی ہے
ہمارے نوجوان عربی لباس بطور فخر پہنتے تھے
اور عربی کلمات بولنے پر فخر محسوس کرتے تھے
حتی کہ ہمارے پادری نواجوانوں کو عربی لباس پہننے سے چوکوں چوراہوں میں منع کرتے تھے

{جس طرح آج علماء کرام انگریزی لباس سے منع کرتے ہیں}

حتی کہ اس وقت کا ہمارا نوجوان اپنی منگیتر سے اظہار محبت بھی عربی میں کرتا تھا
اور کہتا اُحبکِ یعنی میں تم سے محبت کرتا ہوں

{جس طرح آج انگلش میں I Love you کر اظہارِ محبت کرنا فیشن بن گیا ہے}

[ شمس العرب تشرق علی العرب ]

ایسا عظیم ماضی ہم سے کیوں کھو گیا؟
ایسے عظیم علوم کہاں گم ہو گئے؟
کیونکہ
درسِ قرآں گر ہم نے بھلایا نہ ہوتا
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا

اگر مسلمانوں کو دوبارہ اقوامِ عالم پر حکومت کرنی ہے تو اپنے ماضی کی طرف لوٹنا ہوگا
اپنے آباء و اجداد کے علوم و فنون کو کھوجنا اور ان کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top