بہترین رسم

تاریخِ_اسلامی 54

اللہ اللہ
ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں تاریخی مسجد آیا صوفیہ اور جامع مسجد سلطان احمد قریب قریب ہیں
جب اذان کا وقت ہوتا ہے تو ° دونوں مسجدوں کے مؤذن اذان اس طرح دیتے ہیں کہ ایک مؤذن اذان کا جملہ بول کر خاموش ہوجاتا ہے تاکہ دوسرا مؤذن وہ جملہ ادا کر سکے °
اس طرح اول سے آخر تک دو اذانیں بغیر آواز ٹکرائے با آسانی دے دی جاتی ہیں
کتنی پیاری آوازیں ہیں
اور یہ ترکوں کی صدیوں پرانی روایت ہے جہاں قریب قریب مساجد ہوتی ہیں وہاں اس طرح اذان دی جاتی ہے کہ شور
محسوس نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک اذان ترتیب سے اور الگ الگ دی جاتی ہے
جبکہ ہمارے ہاں اذان کا وقت ہو جائے تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی
یہ امت میں عدمِ اتحاد کی وجہ سے ہے
یہاں ایک مسجد والوں کا دوسری مسجد والوں سے عدمِ برداشت کا معاملہ واضح ہوتا ہے!
اللہ اھلِ اسلام کو متحد کرے
ترکوں کا یہ بھی امتیاز ہے کہ وہ مؤذن اس کو بناتے ہیں جس آواز پیاری ہو
ایک شخص نے کسی بھدی آواز والے مؤذن کو اذان دیتے سنا تو کہنے لگا
اذان یوذی الاذان
یہ ایسی اذان ہے جو آذان یعنی کانوں کو اذیت دے رہی ہے
مراد اس کی آواز ایسی بھدی ہے
لہذا اذان وہ دے جس کی آواز پیاری ہو تاکہ سننے والوں کو کوفت نہیں الفت محسوس ہو

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top