ہم غریب ہیں وہ غریب نہیں ہیں

اسلامی_طرزِتربیت 55

ایک بہت امیر آدمی چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا اس کے پاس موجود نعمتوں کی قدر کرے اور دیکھے کہ غریب کیسے رہتے ہیں

وہ اسے صحرا کی سیر پر لے گیا

اور انہوں نے ایک سادہ فارم پر رہنے والے ایک غریب خاندان کی مہمان نوازی میں دن رات گزارے

واپسی پر باپ نے بیٹے سے پوچھا
سفر کیسا تھا؟
بیٹے نے جواب دیا:
بہت شاندار

باپ: تم نے دیکھا, غریب کیسے رہتے ہیں؟

بیٹا: جی ہاں

باپ: تو بتاؤ تم نے اس سفر سے کیا سیکھا؟

بیٹا: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس ایک کتا ہے اور غریب کے پاس چار ہیں
ہمارے باغ کے بیچ میں ایک تالاب ہے
اور ان کے پاس نہ ختم ہونے والی ندی ہے

ہم اپنے باغ کو روشن کرنے کے لیے بلب جلاتے ہیں
اور ان کے پاس آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے ہیں

ہمارا صحن سامنے والے باغ پر ختم ہوتا ہے
جبکہ ان کا تاحد نگاہ پھیلا ہوا ہے

ہمارے پاس رہنے کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ ہے
اور ان کے پاس ان کے کھیتوں سے باہر بھی جگہیں ہیں

ہمارے پاس نوکر ہیں جو ہماری خدمت کرتے ہیں
اور وہ ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں

ہم اپنا کھانا خریدتے ہیں اور وہ خود بناتے ہیں

ہماری حفاظت کے لیے ہماری اونچی دیواریں ہیں
اور ان کی حفاظت کے لیے ان کے دوست ہیں

بچے کا باپ چپ ہو کے رہ گیا

پھر بچے نے کہا

بابا آپ کا شکریہ:
آپ نے مجھے دکھایا کہ ہم کتنے غریب ہیں

ہر ایک انسان کی نظر کا زاویہ الگ الگ ہوتا ہے

جس کو آپ کمتر سمجھ رہے ہیں ممکن ہے وہ کسی کے نذدیک راحت و چین کا باعث ہو

آپ کے لیئے ذرہ کسی کے لیئے پہاڑ ہو سکتا ھے

لوگوں کی آنکھوں میں خوشی الگ الگ ہوتی ہے

غریب وہ نہیں ہوتا کہ جس کے پاس مال و دولت اور وافر کھانا اور عالیشان مکان نہ ہو بلکہ یہ اشیاء تو مسائل کی جڑ ہوتی ہیں
غریب تو وہ ھے
جس کے پاس صحت مند کھانا نہیں ھے اگرچہ کھانا بہت زیادہ ہو
غریب تو وہ ھے جس کے پاس مشکل وقت میں کام آنے والا دوست ہی نہ ہو
غریب تو وہ ھے جس کے پاس عالیشان گھر تو ہو مگر کھلی و صاف فضاء نہ ہو
غریب تو وہ ھے جس کی زندگی پرسکون نہ ہو اگرچہ لاکھوں کروروں روپے کا مالک ہو
اللہ ہمیں دلدار بنائے مالدار نہ بنائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top