عشقِ-الہی-مقصدِ_حیات 124
المُحِبُّ لِلَّهِ لَا رَاحَةَ لَهُ دُونَ لِقَائِهِ وَكُلُّ مَحْبُوبٍ سِوَى اللَّهِ فَهُوَ غُصَّةٌ وَهُمُومٌ
الله رب العزت سے محبت کرنے والے کو رب العالمین کی ملاقات کے سوا راحت نہیں ملتی
اور الله رب العزت کے سوا ہر محبوب رنج و غم ہی دیتا ہے
رب العزت کا تو ذکر بھی دلوں کو چین دیتا ہے
خواہ ذکر زبان سے الله الله کرنا ہو یا دل میں اس کی یاد ہو یا اعضاء سے اس کی اطاعت نماز روزہ ہو
یہ سب ذکر کی اقسام ہیں اور کرنے والے کو سکون دیتی ہیں
الله رب العزت نے دنیا میں مؤمنین کے لیئے صرف ایک شے جنت کی رکھی ہے وہ ذکرِ الٰہی ہے
اسی وجہ سے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ جو دنیا سے ذکر کی لذت کے بغیر چلا گیا وہ بڑی نعمت چکھے بغیر گیا ہے
ذکر کی کثرت وہی کرتا ہے جس کی محبت زیادہ ہو
من احب شیئا اکثر ذکرہ
جو کسی شے سے محبت کرتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے
یادِ الٰہی وہی کرتا ہے جسے اُس سے ملاقات کا شوق ہو
اور جو اُس شوق میں مست رہتا ہے دنیا کے رنج و الم اسے مضطرب نہیں کر سکتے
دن میں ایک جگہ بیٹھ کر اہتمام کے ساتھ پانچ یا دس ہزار بار صرف اللهُ اللهُ اللهُ اللهُ اللهُ اللهُ کیا کریں
زیادہ سے سے آدھا گھنٹہ لگ جائے گا مگر یقین کریں یہی وقت آپ کے نزع و قبر و حشر و میزان و پل صراط پر کام آئے گا
ذکر کرتے وقت الله رب العزت کی عظمت اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھیں
یہ ذکر آپ کو بہت سے اوراد و وظائف سے بے نیاز کر دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
