ردِالحادو_لادینیت 8
دنیا بھر میں جہاد نہ ہونے کی وجہ اسکولی نظامِ تعلیم ہے
اس تعلیمی نظام سے بزدلی وطن پرستی قومیت سکھائی جاتی ہے
آپ موجودہ دور میں جہاد کرنے والوں کو دیکھ لیں ان کی دینی تعلیم دنیاوی تعلیم سے زیادہ ہے
آٹھ سال قال اللہ اور قال رسول اللہ پڑھنے والا وطن کی سرحدوں کا محافظ کیوں نہیں بن سکتا ؟
جبکہ حقیقی معنوں میں سرحد کی حفاظت وہی کر سکتا ہے جو جہاد کی مقصدیت جانتا ہو
جبکہ جہاد کی معنویت و مقصدیت کو میٹرک بی اے یا ایم اے پڑھا ہوا نہیں بلکہ آٹھ سال درس نظامی پڑھنے والا جانتا ہے
ایف اے ایم اے والا تو بنیادی فرائض اور اسلامی بنیادی عقائد تک نہیں جانتا
جہاد کا فلسفہ کیسے سمجھے گا ؟
ہمارے علماء کی باہمی لڑائیوں سے آج تک یہ بل منظور نہیں ہوسکا کہ دینی ادارے کا فارغ التحصیل بغیر کسی ایکولینس کے آرمی میں بھرتی ہو سکے
عالِم اگر سپاہی ہوگا تو وہ وطنیت چھوڑ کر شرعی اصولوں پر چلے گا
یوں فوج میں جہاد کی آواز کثرت سے بلند ہوگی
اسی خوف سے دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا
اس موضوع پر طویل قلم چل سکتا ہے
بلکہ گورنمنٹ کے ہر ادارے میں اسکول کے تعلیم یافتہ لوگوں کی بھرتی کیوں ہوتی ہے`
دینی ادارے کے فارغ التحصیل کی بھرتیاں کیوں نہیں ہوتی
اس نظام سے یہود و نصاری کا کتنا فائدہ ہوتا ہے
اس پر تو سلسلہ وار لکھا جا سکتا ہے
اگر پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک کو خوشحال اور صحیح معنوں میں اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں تو موجودہ نظام کا عکس تصور کریں یعنی ہر حکومتی ادارے میں صرف دینی مدارس کے فارغ التحصیل کی تقرریاں تصور کریں
پھر تصور کریں نظام کیسا چل رہا ہے
عالمِ دین ہر محکمے میں ہوگا تو نہ رشوت نہ کام چوری نہ حرام کاری نہ غیر اسلامی نظام ہوگا
سود جس پر یہود کی بنیاد ہوگی نہ ہوگا جس سے یہود کی کمر ٹوٹ جائے گی
فوج جہاد کی آواز بلند کرے گی
جس سے کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم نہیں ہوگا
یہ پہلے ہو چکا ہے
دورِ خلافت میں علماء ہی حکومت کے شعبوں پر مقرر ہوتے تھے
اور آنے والے وقت میں ہوگا
بس
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
