عجائباتِ_عالم 34
“رینڈیان” برطانوی شہر “گیانا” میں 1871ء میں پیدا ہوا
اس کے نہ کوئی اعضاء تھے نہ ہاتھ اور نہ ہی دو ٹانگیں
بلکہ صرف ایک سر اور پیٹ تھا
وہ جرابوں جیسا اونی سوٹ پہنتا تھا اور اسے سانپ یا لاروا کہا جاتا تھا
اس نے انگریزی سمیت چار زبانوں میں مہارت حاصل کی تھی جرمن فرانسیسی اور ہندی میں ماہر تھا
اور اس نے اداکاری کے میدان میں 1932 میں “فریکس” نامی ہارر فلم میں قدم رکھا اور اسی وقت اسے شہرت ملی اور اس نے بہت سے کاموں میں ترقی پائی
جن میں ڈرائنگ، لکھنا، سگریٹ لپیٹنا اور انہیں آسانی سے روشن کرنا شامل تھا
سب سے عجیب بات
اس نے شادی بھی کی اور اس کے چار بچے پیدا ہوئے
پھر 63 سال کی عمر میں اس کا مر گیا
اپنی اولاد کے لیئے بہت سی دولت چھوڑ گیا کیونکہ لوگ دور دور سے اس کو دیکھنے آتے اور پیسے بھرتے اور اسے دیکھتے تھے
وہ نہ مایوس ہوا نہ احساس کمتری کا شکار ہوا بلکہ مختلف فنون کا ماہر بنا
معلوم ہوا
انسان ہاتھ پاؤں سے بھی معذور ہو بلکہ سرے سے ہوں ہی نہ تب بھی اپنی قوتِ ارادی اور دوسری خوبیوں سے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے
کما سکتا ہے شہرت پا سکتا ہے دولت بنا سکتا ہے
آپ کیوں مایوس ہیں ؟
کیوں دل چھوٹا کیئے بیٹھے ہیں ؟
اس کے نہ ہاتھ تھے نہ پاؤں پھر بھی کثیر دولت اور عظیم شہرت کما کر گیا
آپ کے ہاتھ بھی سلامت پیر بھی سلامت آنکھ ناک کان زبان سب سلامت ہیں تو آپ کیوں مایوس ہیں؟
آپ کیوں وقت سے پہلے ہی اپنی ہار کا فیصلہ کر چکے ہیں؟
جب تک سانس ہے حالات سے لڑنا ہی کمال ہے
بغیر لڑے مر جانا بزدلی ہے اور لڑتے ہوئے مرنا بہادری ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
