آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 21
••• حضور اچھے قرض دار ہیں •••
حضورِ جانِ عالَم صلی الله علیہ وسلم کی آل اولاد سے بھلائی کرنا نہایت عظیم کام ہے جس سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہیں اولادِ رسول سے بھلائی کرنے والے کے لیئے دعاء فرماتے ہیں آلِ رسول پر خرچ کرنے والے کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں
ابو الحسن علی ابراہیم بن عثمان الرقی مالدار شخص تھے
ایک دن ان کے پاس آلِ رسول میں سے ایک غریب شخص آیا جو حسینی سید تھا
کہنے لگا ” اے شیخ مجھے سو من آٹا تول دو علی بن ابراہیم نے کہا قیمت کہاں ہے ؟
وہ غریب سید کہنے لگا
میرے پاس پیسے نہیں ہیں مگر میں اس کی قیمت اپنے نانا جان صلی الله علیہ وسلم کے ذمے لکھ دیتا ہوں
شیخ نے اس غریب سید کو مطلوبہ مال دے دیا
اور مال کی قیمت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لکھ دی
الله الله
کیسا سستا سودا ہے کہ چند پیسے دے کر سادات کرام کے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم سے لین دار ہو گئے
جب یہ بات دوسرے ساداتِ کرام کو معلوم ہوئی تو وہ بھی آنے لگے
حسنی و حسینی ساداتِ کرام کی کثرت سے آمد ہوئی وہ شیخ سے مال طلب کرتے اور شیخ ان سے مال کی قیمت رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے ذمے لکھوا لیتے تھے حتی کہ شیخ کے پاس کچھ مال نہ رہا وہ خود فقیر ہو گئے
پھر ایک دن وہ شیخ سیدی عمر بن یحییٰ علوی کے پاس حاضر ہوئے اور اپنی غربت کی شکایت کرنے لگے اور ساداتِ کرام کے لکھے ہوئے وہ سب خطوط دکھائے
جب رات آئی تو شیخ علی بن ابراہیم نے خواب میں ساداتِ کرام کے نانا جان صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ساتھ میں ساداتِ کرام کے دادا جان مولا علی بھی تھے
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اے ابو الحسن مجھے پہچانتے ہو ؟
عرض کی جی حضور
آپ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں
فرمایا
مجھ سے کیوں شکوہ کیا ہے جبکہ تم لین دین مجھ سے کرنے والے ہو ؟
عرض کی
حضور میں تنگدست ہو گیا ہوں
فرمایا
اگر تم نے مجھ سے لین دین دنیا کے لیئے کیا ہے تو دنیا میں ہی تمہیں بدلہ دے دیتا ہوں
اگر مجھ سے لین دین آخرت کے لیئے کیا ہے تو صبر کرو
میں بہت اچھا قرض دار ہوں
شیخ گھبرا کے اٹھے اور رونے لگے اور جنگلوں پہاڑوں میں نکل گئے
کچھ دِنوں بعد لوگوں نے ان کو ایک غار میں وفات شدہ پایا تو غسل کفن دے کر دفنا دیا
اسی رات کوفہ شہر کے سات نیک آدمیوں نے شیخ کو خواب میں دیکھا کہ جنتی سبز رنگ کا حلہ سجائے جنت کے باغات میں ٹہل رہے ہیں
انہوں نے پوچھا
اے ابو الحسن ” اس نعمت تک کیسے پہنچے ؟
شیخ ابو الحسن نے فرمایا
من عامل محمدا صلى الله عليه وسلم وصل إلى ما وصلت إليه الا انى رفيق رسول الله
جو بندہ جنابِ محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم سے لین دین کرتا ہے وہ وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک میں پہنچا ہوں
سن لو میں جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی ہوں
{شرف المصطفی للحافظ الخرکوشی المتوفیٰ 406 ہجری
جلد ج 3 ص 217 }
بڑے مزے کے الفاظ ہیں کہ
سادات کرام سے لین دین کرنے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے لین دین کرنے والا ہے
جو ساداتِ کرام پر خرچ کرتا ہے حضور اس کے قرض دار ہیں
فرماتے ہیں
میں بہت اچھا قرض دار ہوں
اور آخر میں شیخ نے فرمایا
جو حضور سے لین دین کرتا ہے وہ اسی مقام کو پا لیتا ہے جسے میں نے پایا ہے
اسے جنت میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوس ملتا ہے
اب آپ بتائیں
حضور سے لین دین کرنا چاہتے ہیں ؟
حضور کے پڑوس میں آباد ہونا چاہتے ہیں ؟
تو ساداتِ کرام کی دل کھول کر خدمت کریں
آپ کی اولاد سے کوئی بھلائی کرے تو آپ اس سے محبت کریں گے
حضور کی اولاد سے کوئی بھلائی کرے حضور اسے نہیں بھولیں گے
اور شیخ کی حسنِ عقیدت دیکھیں
حسنی و حسینی ساداتِ کرام کی خدمت کر کے ان سے خط لکھوا لیتے تھے
کہ اب میرا لین دین حضور سے ہوگیا ہے
اور حضور اپنا قرض ضرور واپس کرتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
