آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 6
آپ منافقت سے پاک ہونا چاہتے ہیں تو یہ عمل کریں
خود پر نفاق کا خوف کرنا کثیر صحابہ کرام کی سنت ہے
وہ بخشے بخشائے صاف ستھرے نفوسِ قدسیہ جن کے صدقے سے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف ہوں وہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہم منافق تو نہیں؟
یاد رکھیں
خود پر منافقت کا خوف نہ کرنا منافقت ہے
اور یاد رکھیں صحابہ کرام کا خود پر نفاق کا خوف منافقتِ اصلی و نفاقِ اعتقادی کا خوف تھا
اور یہ ان کا کمال درجے کا تقوی تھا
منافقت کی دو قسمیں ہیں
(1) منافقتِ اعتقادی اسے منافقتِ اصلی بھی کہتے ہیں
(2) منافقتِ عملی
منافقتِ اعتقادی اندر سے حقیقی کافر اور ظاہری مسلمان ہونا
اور منافقتِ عملی مومن موحد کے ایسے کام جو منافقوں کے کاموں کے مشابہ ہونا
یہ حقیقتاً کفر نہیں صورتاً کفر ہے مثلا جھوٹ بولنا لڑائی کے وقت گالی گلوچ کرنا وعدہ خلافی کرنا اور امانت میں خیانت کرنا
بخاری شریف میں منافق کی یہی علامات بیان ہوئی ہیں
اب سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود پر منافقت کا خوف کیا ہے؟
زمانہ اتنا پرفتن ہے کہ
خود کو پکا ٹھکا سَچا سُچا بے آمیزشِ منافقتِ اعتقادی و عملی مومن یقین کیا جاتا ہے
جبکہ دوسرے موحد مومن کو لمحوں میں دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جاتا ہے
یہ فاروق اعظم ہیں جو حضرت حذیفہ سے پوچھتے ہیں
نشدتك بالله أنا منهم؟ قال لا
تمہیں الله کی قسم دیتا ہوں بتاؤ کیا میں منافقوں میں سے ہوں؟
حضرت حذیفہ نے عرض کیا نہیں
(مسند بزار)
حذیفہ رضی الله عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتائے ہوئے تھے
یہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدار صحابی ہیں
❗ نکتہ ❗ مہاجرین میں سے کوئی صاحب منافق نہیں تھے منافق ان میں تھے جو مدینہ پاک اور ارد گرد رہتے تھے
اسی طرح ام المومنین ام سلمہ رضی الله عنھا سے فاروق اعظم نے پوچھا کہ کیا میں منافقوں میں سے ہوں فرمایا خدا کی قسم نہیں
(طبرانی)
یہ سیدی ابو الدرداء عظیم صحابی ہیں نفاق سے پناہ مانگتے تھے
(الزھد لابن مبارک)
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں
میں تیس صحابہ کرام سے ملا ہوں جو خود پر منافقت کا خوف کرتے تھے
(بخاری)
امام حسن بصری فرماتے ہیں
مَنْ لَمْ يَخَفِ النِّفَاقَ فَهُوَ مُنَافِقٌ
جو نفاق سے ڈرتا نہیں وہ خود منافق ہے
(فتح الباری)
یہی فرماتے ہیں
ما خافه إلا مؤمنٌ ولا أمنه إلا منافقٌ
نفاق سے مؤمن ہی ڈرتا ہے اور اس سے منافق ہی ہے جو نہیں ڈرتا
(بخاری)
فتح الباری میں ان صحابہ کرام کا ذکر کیا جو نفاق سے ڈرتے تھے حضرت عمر فاروق حضرت ابو الدرداء حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت حذیفہ رضی الله عنھم
حضرت ابو ایوب انصاری اور عمر فاروق اعظم رضی الله عنھما تو ہر اس آیت کو سن کر جس میں منافقوں کا حال ہوتا کہتے شاید میں مراد ہوں
کبار صحابہ کرام کا نفاق سے ایسا ڈر اور ہم کدھر کھڑے ہیں؟
ہم تو ایسے پکے مومن ہوتے ہیں کہ دوسروں کو اسلام و سنیت سے نکالنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے
منافقت سے نجات کے دو عمل آخر میں لکھ دیتا ہوں
ایک قرآن کریم سے دوسرا حدیث پاک سے ہے
سورہ نساء میں الله رب العالمین نے منافقین کی ایک عادت بیان فرمائی ہے
لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا
وہ الله کا ذکر کم ہی کرتے ہیں
یعنی کثرت سے الله رب العزت کا ذکر منافقت سے پاک کرتا ہے
دوسرا عمل
حدیث پاک میں مولا علی نے فرمایا
عهد إلي النبي الأمي أنه لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق
مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد فرمایا کہ
مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا
(مسلم شریف)
حتی کہ روایت میں ہے
کوفہ کے بازار میں مولا علی نے ایک خربوزہ چکھا جو کڑوا تھا
فرمایا خدا کی قسم یہ مجھ سے بغض رکھتا ہے
اگر مجھ سے محبت کرتا تو میٹھا ہوتا کیونکہ مجھ سے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا کہ ہر مومن مجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر منافق مجھ سے بغض رکھتا ہے
قرآن کریم کے مطابق ذکر الہیٰ میں کمی کرنا منافقوں کی نشانی ہے
اور حدیث پاک کے مطابق بغضِ مولائے کائنات منافق کی نشانی ہے
اب ایک حدیث پاک سنیئے
ذكر علي عبادة
علی کا ذکر عبادت ہے
(جامع صغیر)
حدیث پاک میں ہے
من أحب شيئا أكثر من ذكره
جو کسی شے سے محبت کرتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے
(کشف الخفاء)
تو مولا علی کا ذکر کثرت سے کرنا ان سے محبت کی نشانی ہے اور ان سے محبت خالص ایمان کی نشانی ہے
اور ان کا ذکر عبادت ہے تو قصہ مختصر جو محبتِ علی کا شکار ہے وہ ذکر مولائے کائنات کرے گا اور ذکر مولا علی ذکر الہیٰ ہے
اور ایسا بندہ ہر قسم کی منافقت سے پاک ہے
یہاں یہ بھی صاف ہوگیا جن کو شکوہ ہے کہ بقیہ صحابہ کرام کا ذکر زیادہ کیوں نہیں کیا جاتا
منافقت سے نجات حبِ علی اور ذکر علی عبادت یہ خاصہ جناب مولا مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم ہے
یہی وجہ ہے اسلاف سے اب تک اس امت میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ ذکر مولا علی کا ہوتا ہے
کیونکہ مسلمان ان کے پاک ذکر سے خود کو نفاق سے پاک کرتے ہیں
گلستانِ رسالت کے ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے لہذا ان کی خوشبو سونگھیں ان میں تقابل کر کے اپنی ناک کی قوت شامہ کا ستیاناس نہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
