تصوف_و_صوفیاء 84
ایک دانا کو کسی نے کہا
آپ فقہ کیوں نہیں سیکھتے
فرمایا
میں نے کتبِ فقہ سے تین مسائل سیکھے ہیں
پہلا مسئلہ کتاب النکاح سے سمجھا
أَن الْجمع بَين الْأُخْتَيْنِ حرَام بِالنَّصِّ
دو بہنوں کو ایک ہی شخص کا نکاح بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام ہے یہ قرآن سے ثابت ہے
تو میں نے کہا دنیا و آخرت دو بہنیں ہیں
میں دو جو جمع نہیں کروں گا
یعنی دنیا چھوڑ دی اور آخرت اختیار کی
دوسرا مسئلہ کتاب الطلاق سے سمجھا
*أَن مُطلقَة النَّبِي عليه السلام لَا يجوز نِكَاحهَا بِالنَّصِّ
نص سے ثابت ہے کہ جسے رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے طلاق دی اس سے نکاح کرنا امتی کو جائز نہیں ہے
دنیا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طلاق یافتہ ہے
تو میں نے کہا جسے نبی پاک نے طلاق دی میں اس دنیا سے کبھی نکاح نہیں کروں گا
تیسرا مسئلہ کتاب البیوع سے سمجھا
فقہی مسئلہ ہے
الْحِنْطَة بِالْحِنْطَةِ مثلا بِمثل يدا بيد وَالْفضل رَبًّا
گندم کے بدلے گندم برابر ہو اور ہاتھوں ہاتھ لینا ہو تو جائز ہے اگر کمی بیشی ہو تو سود ہے
تو میں نے کہا
عمر کا ایک صاع { وزن کا نام } رزق کے صاع کے بدلے ہے کمی بیشی حرام ہے
❗ الدرة الغراء في نصيحة السلاطين والقضاة ص ٢٤١ ❗
جب دل و دماغ قربِ الٰہی کے لیئے مستعد ہوں تو ہر علم و فن میں تصوف تلاش کر لیتے ہیں
میر سید عبد الواحد بلگرامی نے نحو کی مشہور کتاب کافیہ کی صوفیانہ شرح کی ہے
جب کسی پر کوئی فن غالب آ جائے تو وہ دیگر فنون میں اپنا فن تلاش کر لیتا ہے
ابو حیان اندلسی نے کہا
مَن غلب عليه حبُّ شيءٍ جَرَى في كلامه
جس پر کسی شے کا غلبہ ہو جائے اس شے کا ذکر اس کے کلام میں بار بار آتا ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں
مَن أكثَرَ مِن شيء عُرِف به
جو کسی شے کی کثرت کرتا ہے وہ اسی شے سے پہنچانا جاتا ہے
یہی وجہ ہے صوفیاء کرام کے درمیان ایک اصطلاح مشہور ہے
جب کوئی بزرگ عشق و محبت کے بارے نفیس نکات بیان کرتا ہو اس کے بارے کہا جاتا ہے
فلاں یتکلم فی الحب
فلاں محبت کے بارے کلام کرتا ہے
یہ دور فتنوں کا ہے اس میں آپ کسی کا مزاج یا کہ لیں کسی کے دل و دماغ پر غلبہ قرآن و حدیث کا نہیں پائیں گے تصوف و طریقت کا نہیں پائیں گے کہ جو ہر بات قرآن و حدیث اور سِیَر صوفیاء سے ثابت کرے
ہاں مگر یہ دور جدل کا ہے
لوگوں کے مزاج بحث و جھگڑے والے ہیں تو ہر ایک مناظرے و رد پر تیار ہے
عمل و اصلاح سے دور ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
