کاش وہ چور حاکم ہوتا

تاریخِ_اسلامی 64

عباسی دور کا بہت بڑا چور ادھم بن عسقلہ جب مرنے لگا تو اس نے اپنے شاگرد چوروں کو جو وصیت کی
وہ پڑھنے کے قابل
اور ہمارے سیاستدانوں کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے
وصیت کا ترجمہ یوں ہے
کسی عورت کا مال چوری نہ کرنا
نہ غریب کا مال چوری کرنا
نہ پڑوسی کا مال چوری کرنا
اگر کسی گھر میں چوری کرو تو آدھا مال چرانا اور آدھا گھر والوں کے لیئے چھوڑ دینا کہ وہ زندگی گزار سکیں
تم نہ ظالم بننا نہ قاتل بننا
یقین کریں وہ چور آج کے وزراء اعظم و صدورِ مملکت و اراکینِ پارلیمان اور ممبرانِ سینٹ سے ہزار گنا بہتر تھے
اور یقین کریں
اگر ادھم بن عسقلہ جیسا کوئی چور ہم پر حاکم بن گیا ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے
ملک پاکستان ترقی کر جائے گا
ہم خوشحال ہو جائیں گے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top