تصوف_وصوفیاء 7
صفوۃ الصفوۃ میں ہے
ابو موسیٰ الدبیلی نے فرمایا کہ میں نے یایذید بسطامی سے سنا وہ فرما رہے تھے
عرج قلبي إلى السماء فطاف ودار ورجع، فقلت: بأي شيء جئت معك؟ قال: المحبة والرضا
میرا دل آسمان پہ چڑھا
وہاں طواف کیا گھوما
اور پھر واپس لوٹ آیا
میں نے پوچھا کہ دل اپنے ساتھ کیا لایا
فرمایا
محبت اور رضا
•یعنی اللہ تعالی کی محبت اُسکی محبت میں مخلوق کی محبت•
اور
°اللہ تبارک و تعالی سے ہر حال میں راضی رہنا°
اور مخلوق سے بھی ہر لحاظ راضی رہنا
نہ خالق سے شکوہ نہ مخلوق سے ظلم و زیادتی پہ شکوہ
یہ دو چیزیں جو سمجھ گیا
ولایت کی طرف چل پڑا
کیونکہ دنیا کا وجود محبتِ الٰہی پر قائم ہے اور ایمان کی روح رضائے الٰہی ہے
ہر حال میں الله سے راضی رہے اور ہر حالت میں الله سے محبت کرے
راہِ سلوک میں قینچیوں سے جسم کٹوا لینے اور پھر اف تک نہ کرنے کا نام رضا ہے
دنیا کی ساری مصیبتیں سہنے پر یہ کہنا محبت ہے
جے سوہنا میرے دکھ وِچ راضی تے میں سُکھ نو چولہے پاواں
یعنی اگر میرا محبوب میرے دکھ میں راضی ہے تو سکھ کو بھاڑ میں ڈالتا ہوں
جو بندہَ مومن محبت و رضا کے معاملات سمجھ جاتا ہے دنیا اس پر آسان ہو جاتی ہے
اس کی الگ ہی دنیا ہوتی ہے جس میں وہ ہوتا ہے اور اس کے رب کی یاد ہوتی ہے اور اس یاد میں ایسا مستغرق ہوتا ہے کہ کوئی غم غم نہیں لگتا کوئی مصیبت اسے شکست نہیں دے سکتی
اُٹھیں اپنے رب کی رضا کی طرف اور دوڑیں اپنے رب کی محبت پائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
