تصوف_وصوفیاء 8
پیر و مشائخ اپنا کام یعنی ترسیلِ فیض نہیں کر رہے
صرف چندہ جمع کیا نذرانے وصول کیئے قوالی سنی بڑے لمبے بال لال رکھے سرخ آنکھیں کیں اور مریدین کے گھروں میں آنا جانا اس کے سوا کچھ نہیں کر رہے •
علماء ظنیات و فرعیات پہ باھم دست و گریباں ہیں °
تکفیر و تقلیل سے کم فتویٰ قلم سے صادر ہی نہیں ہوتا •
ان دونوں کے بیچ یہ کنجر دعویدارانِ تصوف و مدعیانِ معرفت بنے بیٹھے ہیں
ان کا قرآن ان کی حدیث بابا بھلے شاہ اور سلطان باہو کی طرف منسوب کافرانہ اور ملحدانہ اشعار اور واقعات ہیں
جن سے اِن اولیائے کرام کا قطعاً تعلق نہیں ہے
یہ شریعت کے باغی تو ہیں ہی اصلِ طریقت کے مخالف بھی ہیں
آپ ان احمقوں سے بات کر لیں تو نماز پڑھنے کی جگہ گھنگروں پہن کر ناچنا پسند کریں گے
روزے کی جگہ بھنگ و چرس کے سُوٹے لگانا چاہیں گے
حج کی بجائے مزارت پہ جانا پسند کریں گے
اور پھر کہتے ہیں ھم پہنچے ہوئے
مگر کہاں
براستہ گمراہی جہنم میں
ان نا مرادوں کو سنتِ رسول پسند نہیں ہوتی یہ ہزاروں سنتوں کے خلاف جا کر تصوف و طریقت کی باتیں کرتے ہیں جو کہ سیدھا جہنم کا راستہ ہے
اگر کسی پیر کا اٹھنا بیٹھنا • کھانا پینا• سونا جاگنا• مخاطب ہونا• لین دین کرنا سنت کے مطابق نہ ہو اس سے بچنا فرض ہے
وہ شیطان ہے
^ اور یہ بات ذہن نشین کر لیں ^
بابا بھلے شاہ یا کوئی دوسرا ولی نہ ناچتا تھا نہ شریعت و طریقت میں اس کی اجازت ہے
صوفیاء کرام کے ہاں وجد ہوتا ہے اور وجد ناچ نہیں ہوتا`
زندیقوں نے تصوف و طریقت میں قصے گھڑ کر شامل کیئے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
