حکمة العرب 35

عربی محاورہ ہے
کَلَامٌ کَالْعَسَلِ وَ فِعْلٌ کَالْاَسَلِ
کلام شہد سا اور کام سرکنڈے سا
یہ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کی باتیں تو چکنی چپڑی مزے کی ہوں مگر عمل برا ہو سید مہتاب عالم
سرکنڈے نہر کے کنارے لگی جھاڑیاں سی ہیں جن میں تیز دھاریاں اور سر نوکیلا ہوتا ہے صرف چھونے سے ہی خون نکل آتا ہے
جس کے قول و فعل میں فرق ہو وہ منافق ہوتا ہے اور یہ معاشرہ منافقین سے بھرا پڑا ہے
سید مہتاب عالم
