ردِ_سائنسِ_جدیدہ 16
ناسا فرماتا ہے کہ
ہم انسان ستاروں کے غبار سے بنے ہوئے ہیں
انسان میں موجود تمام عناصر وہی ہیں جو ستاروں میں پیدا ہوئے ہیں
ناسا پہ ایمان رکھنے والو
قرآن فرماتا ہے
یخرج من بین الصلب والترائب
قرآن فرماتا ہے
انا خلقناہ من طین
کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا
جیمز ٹیلی سکوپ کے جھوٹ پر ایمان لانے والے ناسا کے اس جھوٹ پر بھی ایمان رکھتے ہوں گے؟
اب یہ کیا کریں گے
ڈارون کے بچے بندر کی اولاد بنیں گے یا یونانی نظریات کے مطابق دیوتاؤں کے قدموں کی دھول سے بنے انسان قرار پائیں گے ؟
ہالی ووڈ نے اس پر مویز بھی بنا رکھی ہیں کہ انسان کسی اور سیارے کی مخلوق سے پیدا ہوا وجود ہے
یعنی ناسا و جدید سائنس کا ماخذ ہالی ووڈ مویز ہیں
اور یہ شہدے احساس کمتری کے مارے ہوئے لوگ ان کیمروں اور پھر اسٹوڈیو میں ایڈٹ ویڈیوز پر آنکھیں بند کر کے ایمان لاتے ہیں
تمام باطل قوتیں مل کر آپ کو چکنی چپڑی باتوں سے ہلاکت و کفر کی طرف کھینچ رہی ہیں
ایمان کی حفاظت اسی میں ہے کہ جو ناسا دجالی سسٹم کہے آنکھ بند کر کے اسکو جھٹلا دو
کیونکہ حدیث پاک میں واضح آگیا ہے
قیامت کے قریب یوں ہوگا
سنوات خداعات يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق
چند ایسے سال ہوں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کو جھٹلایا جائے گا
(مسند احمد)
اور ایک روایت میں قیامت کی یہ نشانی بیان کی گئی ہے کہ
پختہ مومن وہ ہوگا جو دجال کے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہے گا
اور ناسا دجال کا اہم ترین ہتھیار ہے
اسی وجہ سے جو ایمان والا ہے وہ ناسا کی باتوں کو رد کر کے قرآن و حدیث پر ایمان لاتا ہے
کہنے میں کتنا اچھا لگے گا کہ فلاں انسان چاند سے بنا ہوا ہے فلاں انسان میں مریخ کے ذرات ہیں فلاں پلوٹو کے عناصر پر مشتمل ہے
جبکہ حقیقت میں سائنس دان ان سیاروں کی بو بھی نہیں سونگھ پائے ہیں
لاکھوں کلو میٹر دور سے انہوں نے خود ہی سیاروں کے بیچ ان کا مادہ ان کی بناوٹ ان کی گیسز تصور ہی تصور میں بنا کر تقسیم کر دی ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

