معاشرے کا محبوب بننا چاہتے ہیں ؟

اسلامی_طرزِتربیت 28

سعید بن الحداد فرماتے ہیں
من تَحَبَّبَ إِلَى العِبَاد بِالمَعَاصِي بَغَّضَهُ اللهُ إِلَيْهِم
جو شخص گناہوں کے ذریعے لوگوں کا محبوب بننا چاہے تو الله رب العزت اسے لوگوں کے نزدیک قابلِ نفرت بنا دیتا ہے
{ سیر اعلام النبلاء }
بے حیائی پر مشتمل ویڈیو کلپس بیہودہ تصاویر نامحرموں کی تصاویر برے کاموں پر مشتمل وٹس ایپ گروپس فیسبک پیجز وغیرہ ان سب کا مقصد گناہوں کے کاموں کے ذریعے لوگوں کے دِلوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے
اسی طرح سوشل میڈیا پر مسلمان خاتون کا اپنے ہاتھوں پاؤں کی تصویر یا برقعے نقاب میں تصاویر اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے
ان طریقوں سے لوگ جسمانی قرب چاہتے ہیں وقتی واہ واہ کرتے ہیں جبکہ دل سے نفرت کرتے ہیں
یہی وجہ ہے آپ کسی بھی مشہور اداکار مرد ہو یا عورت کے بڑے فین بھی ہوں مگر دیکھ لیں ان کے جوتے اٹھانے ان کا جوٹھا کھانے پینے سے کراہت محسوس کرتے ہیں
جبکہ دینی استاذ روحانی شخصیت کے جوتے اٹھانے کو سعادت اور ان کو جوٹھا کھانے پینے کو برکت جانتے ہیں

الله رب العزت نے یہ اصول بنا دیا ہے
گناہوں سے لوگوں کے دل نہیں جیتے جا سکتے
نیکیوں سے دلوں پر قبضہ ہو جاتا ہے

قرآن کریم نے اعلان فرمایا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا

بےشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیئے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبت کردے گا

یعنی ایمان لا کر اچھے کام کرنے والوں کی محبت لوگوں کے دِلوں میں ڈال دے گا
اچھے اعمال والا مؤمن اجنبی بھی ہو تو دل اس کی طرف مائل ہوتا ہے

تقوی و طہارت مقناطیس کا سیدھا رخ ہے جو اپنی طرف کھینچتا ہے
جبکہ گناہ و ظلم مقناطیس کا وہ الٹا رخ ہے جو دور بھگاتا ہے

سادہ سی بات ہے
خالق کی نافرمانیاں کر کے مخلوق کے دل اپنی طرف نہیں کھینچے جا سکتے
من کان لله كان الله له
جو الله کا ہو جاتا ہے الله اس کا ہو جاتا ہے
اور جس کا الله ہو جائے مخلوق اس کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے
گناہوں کے ذریعے لوگوں کو مائل کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ لوگوں کے نزدیک یہ بھانڈ مراثی طوائفہ بد کردار بے نسلے مشہور ہوتے ہیں
آپ دنیا کی سب مشہور ادکارہ کو دیکھیں
کیا اسے کو خاندانی عورت مانتا ہے ؟
دنیا کے سب سے مشہور ادکار کو دیکھیں
اردو میں اسے مسخرہ اور بھانڈ کہا جاتا ہے
بس اتنی سی بات ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top