مسلمان اور یہودی کا دل جلا دینے والا حقیقی قصہ

اسلامی_طرزِتربیت 197

موجودہ مسلمانوں کی اکثریت کا یہی حال ہے جو نیچے ایک سچے واقعے میں ہوا

یمن کا یہودی رہنماء جس کا نام یحییٰ یعیش ہے
وہ یمن کے مشہور شہر صنعاء سے دوسرے شہر ریدۃ کے لیئے سفر پر نکلا
کیونکہ اس نے یوم السبت ( یہودیوں کا مذہبی دن ہے جیسے مسلمانوں کا جعمہ مذہبی دن ہے ) منانے جانا تھا
تو وہ جعمہ کے دن سفر پر نکلا تاکہ وقت پر پہنچ جائے
ٹیکسی والے کو عین جعمہ کے وقت اس نے صنعاء سے ریدۃ تک جانے کے لیئے کہا اور 5000 یمنی ریال طے کیئے
ٹیکسی والا مسلمان تھا
کہنے لگا جمعہ کا وقت ہے جمعہ پڑھ لوں پھر چلیں گے
یہودی ربی کہنے لگا
میں تمیں دس ہزار ریال دوں گا ابھی چلو
مسلمان جدید مسلمان تھا راضی ہوگیا
راستے میں مسلمان اس یہودی کو مسلمان کرنے کی کوشش کرنے لگا
یہودی ہنس کر کہنے لگا
میں نے یوم السبت کے لیئے دس ہزار ریال دے دیئے اور تم نے دس ہزار ریال کے لیئے جمعہ چھوڑ دیا
پہلے تم خود مسلمان بن جاؤ پھر کسی اور کو اسلام کی طرف مائل کرنا
حج میں کرپشن. مسجد خرانچی کرپشن. رمضان میں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کر کے کرپشن. زکوۃ کی عدم ادائیگی سے کرپشن. ائمہ مساجد کی تنخواہوں کو مار کر کرپشن. جامعات و مدارس کے مالِ وقف میں کرپشن یہ سب عام ہیں
اور یہ سب دینی جگہوں پر کرپشن کی مثالیں ہیں
جبکہ ملکی شعبہ جات میں سے ایک بھی شعبہ کرپشن سے پاک نہیں ہے!
حرام کھانے پہننے پینے کی کثرت کرتے ہوئے مسلمان اپنی مظلومیت ختم ہونے کی دعائیں کرتے ہیں!
صحابہ و تابعین ہمیں دیکھتے تو بالیقیں کہتے یہ مسلمان نہیں ہیں
اور ہم ہیں کہ صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں کسی دوسرے کو مومن سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہیں
ٹیکسی ڈرائیور کی طرح اکثر مسلمان حرام مال سے صدقہ کر کے جنت میں محلات و حور و غلماں کے متمنی ہیں

ہر حرام کام کر کے ہر ممنوعہ فعل کے مرتکب ہو کے دار السلام میں دائمی زندگی چاہتے ہیں
گناہگار ہوتے تو قابل معافی تھے مگر آج کا مسلمان تو غدار ہے
یہ غداری ہی تو ہے کہ اقوامِ عالَم کو اپنی شنیع و قبیح حرکات سے بد ظن کر رکھا ہے
مذہبی طبقہ باہم لڑ رہا ہے اور دنیاوی طبقہ مال جمع کر رہا ہے
کوئی اسلام پر آئے نازک وقت کا لحاظ نہیں کر رہا
مجموعی طور پر سب مجرم ہیں تبھی یہ دور دورِ فتن اور زمانہ زمانہِ غربت ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top