ذاتی_مطالعہ 102
اللہ رب العزت نے سورہ فاطر میں فرمایا
يزيد في الخلق ما يشاء
اللہ اپنی تخلیق میں جو چاہے اضافہ فرماتا ہے
تفسیر بغوی میں ہے اس سے مراد اچھی آواز ہے
یعنی اللہ رب العزت جس کی آواز میں چاہے زیادہ حسن پیدا کرے
بعض علماء نے فرمایا مراد آنکھوں میں ملاحت ہے
یعنی اللہ رب العزت آنکھوں میں کشش رکھ دیتا ہے
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے التصریح فی شرح التسریح میں فرمایا
مراد مردوں کی داڑھی ہے
یعنی اللہ مردوں کی داڑھی بڑھاتا ہے جس سے ان کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے
اور یہ دن سے روشن بات ہے داڑھی مرد کا حسن و جمال ہے
اور جو عورت اس حسن و جمال کے بغیر مرد کو پسند کرے وہ فطرت سے بھٹکی شریعت سے بہکی عورت ہے
جیسے عورت بغیر بالوں کے ہے ویسے ہی مرد بغیر داڑھی کے ہے
یعنی عورت کے گنج کا تصور ہی عجیب و غریب ہے اسی طرح مرد کی داڑھی نہ ہونے کا تصور ہی عجیب غریب ہے
مگر فی زمانہ فطرتِ انسانی کو یوں بدلا گیا ہے کہ گدھے گھوڑے ایک ہی جگہ کھڑے کر دیئے گئے ہیں
ایک جنس اپنی ہم جنس کے حسن و جمال کا قائل کم ہی ہوتی ہے یعنی عورت عورت کو حسین کم لگتی ہے مرد مرد کو کم لگتا ہے مگر داڑھی سے مزین مرد مردوں کو بھی حسین لگتا ہے
جیسے لمبے بالوں والی عورت عورتوں میں مہ جمال شمار ہوتی ہے
بہر حال آواز کا حسن , آنکھون کا حسن اور داڑھی کا حسن فطری ہے یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے
اور جب مرد بھاری آواز , سرمگیں آنکھیں ، لمبی زلفوں , سلیقے سے بندھا عمامہ اور سلجھی داڑھی سے مزین ہو تو احسنِ تقویم کا نمونہ ہوتا ہے
مرد سے یہ چیزیں نکال دیں تو کھسرا بن جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
