قابلِ_تقلیدخواتین 6
امت کی قابلِ تقلید خواتین میں سے اسماء بنت اسد الفرات کا نام نمایاں نظر آتا ہے
° افریقہ کے عالم و قاضی اور امام مالک و امام ابو یوسف کے شاگرد اسد الفرات کی بیٹی ہیں °
ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا لہذا والد محترم نے ان کی خوب علمی تربیت کی کہ آفاقِ عالم میں اس محدثہ و فقیہہ خاتون کا شہرہ ہوگیا
یہ اپنے والد محترم کی مجلس میں حاضر ہوتی تھیں اور فقہی سوال اور مناظروں میں شرکت کیا کرتی تھیں
فقہی حنفی کے مطابق فتوی دیا کرتی تھیں
ان کے والد محترم جہاد پر گئے اور شہید ہوگئے اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے شاگرد محمد بن ابی الجواد سے شادی کی تھی
240 ھجری میں ان کا انتقال ہوگیا
کیسا ہی مزے کا ماحول ہوگا کہ خاتون محدثہ و فقیہہ مردوں کے سوالوں کے جواب دیتی اور ان سے پردے میں رہ کر مناظرہ کرتی تھی
یہ ایک نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں
تب مردوں پر غیرت کا غلبہ اور خواتین پر حیاء کی کثرت تھی
اب مرد بے حیاء اور خواتین کی غیرت آخری سانسوں پر ہے
اسی لیئے نہ ویسا علم رہا نہ ویسی خواتین فقیہات باقی ہیں
مرد علماء سے تعلیم کے حصول کی نیت ہوتی ہے مگر بعد ازاں فتنوں کے در کھل کر گھر بن جاتے ہیں
اس کا کم از کم یہی حل ہے کہ مرد علماء اپنی محارم کو خود پڑھائیں
یا با اعتماد عالم دین کی شاگردی میں اپنی موجودگی میں تعلیم دلوائیں
جب تک گھر کا مرد علم والا نہیں ہوگا خاتون عالمہ نہیں بن سکتی
خاتونِ خانہ کا علم نسلوں کو دیندار بنا دیتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
