مدِ تفکیر

المزاح_و_الظرافت 32

علمِ تجوید میں مد کی بنیادی دو قسمیں ہیں
مدِ اصلی
مدِ فرعی
پھر مدِ اصلی کی دو قسمیں مزید ہیں پہلی مدِ عارض دوسری مدِ لازم
اور مدِ فرعی کی تین اقسام ہیں پہلی مدِ متصل دوسری مدِ منفصل اور تیسری مدِ بدل
تو یوں کل پانچ اقسام بن گئیں
(بنیادی تقسیم کاری یہی ہے پھر قراء حضرات نے کمی بیشی کی ہے)
عرب کے ایک قاری صاحب کہتے ہیں
مد کی ایک چھٹی قِسَم بھی ہے اور وہ ہے مدِ تفکیر یعنی سوچنے والی مد

کہتے ہیں جب حافظ مد عارض کو 16 الف کے برابر کھینچ رہا ہو تو سمجھ جاؤ وہ اگلی آیت بھول چکا ہے
اسی مد کو وہ مدِ تفکیر سوچنے والی مد کہتے تھے کہ اس میں غیر محل میں ضرورت سے زیادہ حروف کو کھینچا جاتا ہے
ہمارے ہاں ایک حافظ صاحب تھے جب وہ بھول جاتے تو ہممممممم طرز سے گنگانا شروع کر دیتے تھے
ایک حافظ صاحب تروایح سنا رہے تھے
جب کچھ اٹکتے سامع صاحب فوری لمقہ دیتے جب پھسلتے سامع صاحب جھٹ سے لقمہ دے دیتے
ایک بار جونہی سامع نے لقمہ دیا حافظ صاحب ہاتھ پیچھے کر کے اشارے سے کہتے دو منٹ یار صبر تو کرو
جب طالب علم استاذ کو یا حافظ تراویح میں قرآن سنا رہا ہو تو بھولنے پر طرح طرح کے عجوبے ظاہر ہوتے ہیں
اور یادگار بن جاتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top