المزاح_و_الظرافت 33
ایک دیہاتی اھلِ علم کی مجلس میں حاضر ہوا تو وہ قیام اللیل (راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنا) کے بارے بات کر رہے تھے
دیہاتی کو کہا گیا تم بھی قیام اللیل کرتے ہو؟
دیہاتی کہنے لگا ہاں میں بھی قیام اللیل کرتا ہوں
اچھا تم کیا کرتے ہو؟
کہنے لگا
أبول وأرجع أنام
اٹھتا ہوں پیشاب کرتا ہوں پھر واپس جا کے سو جاتا ہوں
دیہاتی وہابی النسل تھا شاید اسی وجہ سے قیام اللیل کے اس معنی کو جو مسلمان مراد لیتے ہیں نہ سمجھا بلکہ اپنی عقل سے صرف رات کو کھڑا ہونا معنی مراد لیا
جیسے ایک وہابی جس کو علماء کے بغیر حدیث سے مسئلہ نکالنے کا خبط تھا
جب بھی استنجاء کرتا فوری وتر ادا کرتا
کسی اھلِ علم نے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کرتے ہو
کہنے لگا صحیح حدیث میں آیا ہے
مَنِ استَنجى فليوتِرْ
جو استنجاء کرے وہ وتر پڑھے
عالم نے یہ سنا تو خوب ہنسا اور فرمایا
الله کے بندے اس کا معنیٰ ہے جو استنجاء کرے وہ طاق عدد ڈھیلے استعمال کرے
یہ حال ہوتا ہے ان کا جو اھلِ حدیث کہلاتے ہیں
ایک غیر مقلد کتا باندھ کر نماز پڑھتا تھا
پوچھنے پر کہنے لگا حضورِ کلب سے نماز پڑھنا فرض ہے
جواب ملا الله کے بندے وہ حضورِ قلب یعنی دل جمعی سے نماز پڑھنا ہوتا ہے
قلب دل کلب کتا ہوتا ہے
عجیب فضاء بن گئی ہے کہ خود حدیث پڑھیں گے جی اور علماء کرام کی اصول و قواعد کے مطابق کی گئی تشریح سے ہٹ کر خود راتوں کو اٹھ کر پیشاب کرنے کو قیام اللیل کہیں گے استنجاء کے بعد وتر پڑھیں گے اور کتا باندھ کر نماز ادا کریں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
