محبت و بغض میں کیا حد رکھیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 41

سیدی جندب بن عبد اللہ نے فرمایا
ان المؤمن من عباد اللہ لا یحیف علی من یبغض ولا یاثم فیمن یحب
اللہ کے بندوں میں سے مومن کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے دشمن پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا اور اپنے محبوب کی وجہ سے گناہ میں نہیں پڑتا

{فیض القدیر }

اعلی خاندان کی نشانی ہے کہ دشمن سے بھی اتنی دشمنی کرتا ہے جس کا وہ حقدار ہو
مثلاً دشمن میں سوائے جھوٹ بولنے کا کوئئ عیب نہیں تو اسی عیب کو بیان کرے گا دشمنی میں حد سے بڑھ کر ناحق بات دشمن کی طرف منسوب نہیں کرے گا
°°° اسی طرح دشمن سے دشمنی اصول سے نبھائے گا اس کی دشمنی میں اس کی عزت خراب نہیں کرے گا °°°

قرآن کریم نے واضح ارشاد فرمایا
وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ
تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو
دشمن کا ذکر کرنا ہی ہے تو صرف اس قدر کہ جو اس میں عیب ہے
مگر ہمارے ہاں دشمنی میں جو شے بھولتے ہیں وہ حق بیانی ہے

°°° اپنے مخالف علماء تک کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا جاتا ہے یہ حال علم والوں کا ہے عوام دشمنی میں کیا کرتی ہے یہ سب کو معلوم ہے °°°

اعلی حضرت نے فتاوی رضویہ میں فرمایا کہ بدمذہب عالم کی برائی بھی صرف اتنی بیان کی جائے جس کا وہ مستحق ہے
مگر یہاں تو سنی علماء کو خوب رسوا کیا جاتا ہے اور کہاں جاتا ہے حکمِ شرعی یہی ہے
یعنی صرف اس کی گمراہی کو معتدل انداز میں بیان کریں نہ نام بگاڑیں نہ سب و شتم کریں
مگر ہمارے ہاں گالی گلوچ سے دین کا کام لیا جاتا ہے
اور پھر مخالف علماء کے میمز اور کارٹون وغیرہ بنا کر دشمنان اسلام کو ہنسنے کا موقع دیتے ہیں
اعلی حضرت نے دوسری روایت نقل فرمائی
أقيلوا ذوي الهيئةِ زلَّاتِهِم
عزت داروں کی غلطیوں سے ڈر گزر کرو

تمہاری ساری دلیلیں ایک طرف اور
لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ
فرمان ایک طرف
خاندانی بنیں نہ کہ بے خاندان کے کھلے جانور
نا پسند علماء کو بطور گالی رافضی کہنا اسی زمرے میں آئے گا
شرعی مسئلہ بتانے میں کسی کو ناصبی خارجی یا رافضی کہنا فرض ہے
مگر کیا آپ سے سوال ہوا؟
آپ سے فتویٰ طلب کیا گیا؟
°°° یا آپ صرف سوشل میڈیا پر اپنی اندر کی آگ نکالنے کو نصب و رفض و خروج کی اسناد تقسیم کر رہے ہیں °°°
سوشل میڈیا پر حقیقی رافضی یا منسوب برفض کو اور حقیقی ناصبی یا منسوب بنصب کو 95 فیصد بطور گالی رافضی و ناصبی کہا جاتا ہے بطور شرعی مسئلہ نہیں کہا جاتا
یہیں سے ہمارے نوجوان طلبہ کا قرآن کریم نہ سمجھنے کا معیار سمجھ آجاتا ہے
نہ آپ مفتی ہیں نہ مصنف ہیں تو سوشل میڈیا پر کونسا فتوی کونسی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں آپ بطور گالی نہیں بلکہ شرعی مسئلہ بتا رہے ہیں؟
اسلام پر بھی رحم کریں اور خود پر بھی رحم کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top