علماء بھی اولیاء کے محتاج ہیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 42

بعض علماء کی تحریر و تصنیف میں حسنِ لفظی ہوتا ہے مگر حسنِ معنوی سے محروم
کثیر تصانیف ہوتی ہیں مگر روحانیت سے محروم
اور بعض علماء کی تحریر و تصنیف حسنِ معنوی و روحانیت سے بھر پور ہوتی ہے
اگرچہ وہ کثیر التصنیف نہیں ہوتے

اس کی وجہ طبقہِ صوفیاء سے اتصال و عدمِ اتصال ہے
صوفیاء کرام سے متصل عالِم کی تحریر کا لفظ لفظ سوز و گداز سے بھر پور اور نورانیت سے معمور ہوتا ہے

ابن تیمیہ اور ابن قیم کی مثالیں لے لیں کثیر تصانیف بے شمار علوم کے ماہر ہیں مگر بے نور
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب کی مرآۃ المناجیح کو لے لیں عشق سے بھر پور

یہ حال علماء کا ہے جو اولیاء سے مربوط نہ ہوا اس کا علم بھی غیر نافع ہے
تو عام عوام پر اولیاء کرام سے تعلق نہ رکھنے کی نحوست کتنی ہوگی شمار سے باہر ہے
لہذا علماء سے مربوط رہیں ایسے علماء سے جو اولیاء سے مربوط ہیں
اور خود بھی کسی صاحبِ نظر سے بیعت کریں
علم میں خشکی عمل میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے یا علم میں خشکی ذکرِ الٰہی نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے
لہذا ایسے علماء سے متصل رہیں جو اپنے علم پر عمل بھی کرتے ہوں اور ذکرِ الٰہی کی کثرت بھی کرتے ہوں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top