عشاقِ_تاریخِ_اسلام 25
عثمانی دور میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار شریف کے اندر صفائی کے لیئے خاص جھاڑو بنایا جاتا تھا
بعض بادشاہ اپنے ہاتھوں سے جھاڑو بناتے اور پھر خادمِ حجرہ مبارک کو بھیجتے
••• کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ جھاڑو واپس منگواتے اور اس جھاڑو کے تنکے اپنے تاج میں سجاتے تھے •••
حسان الھند کہتے ہیں
ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے
تاجِ سر بنتے ہیں سَیّاروں کے
ایک جگہ امام کہتے ہیں
رضاؔ کسی سگِ طیبَہ کے پاؤں بھی چُومے
تم اور آہ کہ اتنا دماغ لے کے چلے
قصہ مختصر
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے
عاشق تو چاہتا ہے
کاش میری پلکوں کی جھاڑو بن جائے آنسؤں کے پانی کا چھڑکاؤ کروں اور پھر پلکوں کے جھاڑو سے ان کی دہلیز کی صفائی کروں
زیرِ نظر تصویر میں حجرہ پاک میں صفائی کے لیئے استعمال کیا گیا جھاڑو ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

