لطیم و یتیم میں فرق

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 24

کم علمی کی بناء پر ہمارے ہاں جس بچے کے ماں باپ نہ ہوں اسے یتیم کہ دیا جاتا ہے

جبکہ جس کے والدین میں سے ایک یا دونوں بچے کی نابالغی کی حالت میں فوت ہو جائیں اس پر کبھی یتیم کبھی عجی کبھی لطیم کا اطلاق ہوتا ہے

وہ بچہ جس کا باپ نہ ہو اسے یتیم کہتے ہیں
اور جس کی ماں فوت ہو جائے اسے العَجِیُّ کہتے ہیں
حدیث پاک میں ہے

كُنْتُ يَتِيماً ولم أكُنْ عَجِيّاً
میں یتیم تھا عجی نہیں تھا

عجی وہ ہوتا ہے جو اپنی ماں کے دودھ کے سوا دودھ پیئے یا جس کی ماں فوت ہوجائے اور وہ کسی دوسری خاتون کا دودھ پی کر بڑا ہو۔
(النھایۃ فی غریب الحدیث / تاج العروس)

اور جس کے ماں باپ دونوں نہ ہوں اسے لطیم کہتے ہیں
/تاج العروس/

لطم سے مشتق ہے جس کا معنی تھپڑ ہے کیونکہ جس کے ماں باپ نہ ہوں زمانہ اسے تھپیڑ کر رکھ دیتا ہے

یہ یاد رکھیں یتیم وغیرہ لفظ کا اطلاق اس وقت ہوگا جب تک بچہ یا بچی نابالغ ہیں
بالغ ہونے کے بعد کوئی یتیم نہیں کہلا سکتا
لہذا زکوۃ و صدقات وغیرہ دینے میں بالغ کو یتیم سمجھ کر زکوۃ نہ دیں
بلوغت کے بعد اس سے یتیمی کا لفظ اٹھ جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top