مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 25
ایک عجیب و غریب نکتہ ملاحظہ کریں
ماں کی طرف کی رشتہ داری میں حرف خاء آتا ہے خالٌ ماموں اور خالةٌ خالہ
اور باپ کی طرف والی رشتہ داری میں حرف عین آتا ہے عمٌ چچا عمةٌ پھوپھی
اور دادا دادی نانا نانی میں حرفِ جیم مشترک ہے دادا کو بھی جدٌ کہتے ہیں اور نانا کو بھی جدٌ کہتے ہیں
دادی کو جدۃٌ کہتے ہیں اور نانی کو بھی جدۃٌ کہتے ہیں
ایسا کیوں ہے
عم اور عمة (چچا اور پھوپھی) میں جو عین ہے وہ عِر٘ق کی ہے
اور عِر٘ق کا لغوی معنی
اصلُ کلِ شیٍ
ہر شے کی اصل کو عرق کہتے ہیں
خون کی رگ کو بھی عرق کہتے ہیں
تو عم و عمة کی عین عرق کی ہے یعنی چچا بھتیجے اور پھوپھی بھتیجے کا خون ایک ہے
اور ان کی اوپر سے بنیاد ایک ہے
اسی وجہ سے باپ کے ہر رشتہ دار کو چچا اور عورت ہو تو پھوپھی کہتے ہیں کیونکہ ان کا خون ایک ہوتا ہے
اور ماں کی طرف سے رشتہ داری میں خاء آتا ہے
خالٌ و خالةٌ (ماموں اور خالہ)
کیونکہ ان کی خاء خاءُ الخد ہے اور خد بمعنی شق یعنی گڑھا ہے
کیونکہ ماں بچے کو اپنے پیٹ جو گڑھے جیسا ہے اس میں رکھتی ہے تو ماں ایک خد کی طرح ہے اسی خد کے خاء کی نسبت بچے کے ماموں اور خالہ کے نام خال اور خالةٌ میں ہے
اسی وجہ ماں کے ہر رشتہ دار کو ماموں عورت ہو تو خالہ کہتے ہیں
اور جد دادا اور نانا کے لیئے جبکہ جدۃ دادی اور نانی کے لیئے بولا جاتا ہے کیونکہ ان کی جیم جذر والی ہے جس کا معنی جڑ ہے
کیونکہ دادا و نانا بندے کی جڑ ہوتے ہیں اس لیئے دونوں میں جیم داخل ہے
عربی کو شوق بنائیں گے تو لطف پائیں گے
اس ساری تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کی جڑ و اصل و بنیاد اس کے ددھیال ہیں ننھیال نہیں یہ شیطان کے ہاتھوں میں کھیلتی عورتوں کی کارستانیاں ہیں کہ اولاد کو اس کی جڑ سے کاٹنا اور بنیاد سے ہلا دینا چاہتی ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
