قوتِ دافعہ نہ رکھیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 142

کتاب الحیوان میں ہے

إن الكتب لا تحيي الموتى ولا نحوّل الأحمق عاقلا ولا البليد ذكيّا ولكنّ الطبيعة إذا كان فيها أدنى قبول فالكتب تشحذ وتفتق
کتابیں مردہ کو زندہ نہیں کرتیں نہ احمق کو عاقل کرتی ہیں نہ کند ذہن کو ذہین بناتی ہیں بلکہ جب کسی کی طبیعت میں قبول کرنے کی ادنی سی عادت ہو تو کتابیں ذہن میں حدت عقل میں پختگی اور تازگی پیدا کرتی ہیں

❗ کتاب الحیوان للجاحظ ص ٤٤ ❗
اکابر علماء میں سے بعض سے منقول ہے کہ وہ بعض طلباء علمِ دین کی بجائے تجارت یا کسی بھی رزقِ حلال کی طرف بھیج دیتے ہیں کیونکہ ان کی طبعیت قبولیت والی نہیں ہوتی تھی

جنس جنس کی طرف مائل ہوتی ہے تو اگر کسی کی عقل تیز ہوگی تو کتابوں کی زبان سمجھے گا

کچھ طبیعتیں پتھریلی زمین کی طرح ہوتی ہیں جن پر موسلادھار بارشوں کا بھی اثر نہیں ہوتا
علم کے معاملے میں طالبِ علم کی طبیعت میں قوتِ انفعال ہونی چاہئے اور استاذ میں قوتِ فعل ہونی چاہیے
دوسرے الفاظ میں طالبِ میں قوتِ تاثر ہو قوتِ تاثیر نہ ہو یعنی استاذ کا اثر قبول کرے پتھریلی زمین نہ بن جائے
جو استاذ کی بات پر اعتراض کرے ذہن میں وسوسوں کو جگہ وہ طبعیتِ دافعہ رکھتا ہے اور دورانِ طالبِ علم کس کی طبیعت دافعہ ہو حقیقتاً ہو طبیعت مدفوعہ ہوتی ہے جو راہِ علم سے دور کر دی جاتی ہے
جس میں قوتِ تاثر نہیں ہوتی
جو سیکھنے کے زمانے میں سکھانا چاہے گا وہ فلاح نہیں پائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top