مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 18
قرآن کریم میں دو لفظ نفد اور نفذ استعمال ہوتے ہیں
نفد کا معنی انتہاء ہونا شے کا ختم ہونا ہے
اللہ رب العزت کا فرمان ہے
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا
تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اِس کی مدد کو لے آئیں
یہاں نفد کا معنی ختم ہو جانا ہے
جبکہ نفذ کا معنی پار کرنا گزر جانا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے
یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْاؕ-لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ تم جہاں نکل کر جاؤ گے (وہاں ) اسی کی سلطنت ہے.
یہاں نفذ کا معنی پار کر جانا ہے کہ اگر نکل سکو تو زمین و آسمان کی قطاروں سے نکل کر دکھاؤ
یہ چیلنج آج بھی قائم ہے سائنس اپنی انتہائی ترقی ہے مراحل میں ہے پھر بھی زمین کی حدود سے نہیں نکل پائے ان کو یاجوج و ماجوج کا علم نہیں جو انسانوں سے نو گنا زیادہ ہیں
ان کو مرقیسا اور مرجیسا شہروں کا علم نہیں
ان کو انٹارکٹکا کے پیچھے کیا ہے معلوم نہیں ہے
الغرض یہ تمام زمین کی حدود سے نہیں نکل پائے نہ نکل پائیں گے
فضاؤں کا سفر تو انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے
زمینوں کی وسعت انسان کی حیثیت سے بہت پار ہے حد سے زیادہ کوشش انسان کو حیران رہنے پر مجبور کر دیتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
