مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 17
لغتِ عرب میں جلدی کے لیئے دو لفظ استعمال ہوتے ہیں اردو داں بھی استعمال کرتے ہیں
مگر ان کے معنی میں دقیق فرق ہے
سرعة اور عَجلة جسے اھلِ اردو عُجلت بولتے ہیں
دونوں کا معنیٰ بظاہر تیزی ہے مگر حقیقتاً لطیف فرق ہے
سرعت
جس کام میں آگے بڑھنا چاہیے اس میں جلد بازی کرنا سرعت ہے اور یہ لفظ مدح کے طور پہ استعمال ہوتا ہے
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ
اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو کہ متقیوں کے لیئے تیار کی گئی ہے
یہاں پر سرعت کا لفظ ہے جو کہ خیر کے لیئے ہے
دوسری جگہ ہے
اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے
یہ قیامت کے دن ہوگا کیونکہ دنیا میں چھوٹ اور آخرت میں پکڑ انسان کے فائدے کے لیئے ہے کیونکہ دنیا میں عذاب کا شکار نہیں ہوتا
عجلت
جس کام میں آگے نہ بڑھنا ہو اس میں جلد بازی کرنا عجلت کہلاتا ہے
قرآن کریم میں ہے
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ
انسان کو جلد باز بنایا گیا
یعنی ہر کام میں جلد بازی کرنے کی کوشش کرتا ہے
جب سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو پیدا کیا گیا تو روح جب گھٹنوں تک پہنچی تو انہوں نے قیام فرمانا چاہا حالانکہ روح ابھی قدموں تک نہیں پہنچی تھی
تب اللہ رب العزت نے فرمایا
انسان جلد باز پیدا کیا گیا
{ القاموس }
عجلت کی دو قسمیں ہیں
ایک قسم محمود دوسری قسم مذموم ہے
حدیث پاک میں ہے
الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ
ٹھہر ٹھہر کر کام کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے
{ ترمذی شریف}
دوسری حدیثِ مبارکہ میں ہے
العجلة من الشيطان إلا في خمسة فإنها من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم إطعام الطعام وتجهيز الميت وتزويج البكر وقضاء الدين والتوبة من الذنب
جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے مگر پانچ چیزوں میں جلد بازی بہتر ہے کیونکہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے
کھانا کھلانا
میت دفن کرنا
لڑکی کی شادی کرنا
قرض ادا کرنا
گناہوں سے توبہ کرنا
{ ترمذی شریف}
مذکورہ کاموں میں جلدی کریں باقی کام ٹھہر ٹھہر کر کریں
مومن ہر کام غور و فکر اور تدبر کے ساتھ کرتا ہے کیونکہ غور و تدبر سے حقوقِ مسلم کامل طور پر ادا کرنے کا خیال رہتا ہے
کاموں کے مآل اور لین دین کے انجام پر غور کیا جائے تو ناحق کرنے سے باز رہا جاتا ہے
حق مہر کی دو قسمیں ہیں
مہرِ مؤجل
وہ جو بعد میں دیا جائے گا
مہر معجل
وہ جو فوری ادا کیا گیا ہو
مصنفین فوری لکھے گئے رسالہ کو عُجالہ کہتے ہیں
مُع٘جِل اس اونٹنی ہو کہتے ہیں جو سال پورا ہونے سے پہلے بچہ جن دے
مِعجال اس عورت کو کہتے ہیں جو وقت سے پہلے بچہ پیدا کر دے
مِعجال اس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس پر قدم رکھتے ہی وہ اٹھ کر چلنے لگے
لغتِ عرب سیکھیں سمجھیں ذہن کی گرہیں کھلتی جائیں گی افکار میں انوار پیدا ہوں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
