غَرور اور غُرور میں فرق

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 29

قرآن کریم میں لفظِ غَرور بھی آیا ہے اور لفظِ غُرور بھی آیا ہے
مگر ان دونوں کے معنی میں واضح فرق ہے جسے عام لوگ نہیں سمجھ پاتے
عربی زبان کا یہی کمال ہے کہ ایک زبر زیر سے معانی بدل جاتے ہیں
غَرور (بفتح الغین) کا اطلاق ہر دھوکے دینے والے پر ہوتا ہے خواہ انسان ہو شیطان ہو یا دنیا ہو
لغت کی مشہور کتاب تاج العروس میں ہے

الغَرور ما غرک من انسانٍ او شیطانٍ
غَرور وہ جو تجھے دھوکہ دے خواہ انسان ہو یا شیطان ہو

اور البصائر میں ہے

مِن٘ مالٍ و جاہٍ و شھوۃٍ و شیطانٍ
یعنی مال و جاہ و خواہشِ نفسانی و شیطان کو غَرور کہتے ہیں

یعقوب نے کہا

یخص بالشیطان لانہ یغر الناس بالوعد الکاذب و التمنیة
لفظِ غَرور شیطان کے ساتھ خاص ہے کیونکہ یہ انسانوں کو جھوٹے وعدوں اور تمناؤں سے دھوکے میں رکھتا ہے

قرآن کریم میں اس کی مثال ہے
وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ
اور ہرگز وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکہ نہ دے

اور ایک قول ہے شیطان کو غَرور کہنے کی وجہ یہ ہے

لانه يحمل الانسان على محابه وراء ذلك ما يسوءه
کیونکہ شیطان انسان کو انسان کی ان پسندیدہ اشیاء پر ابھارتا ہے جن کے بعد اس کا نقصان ہے
(تاج العروس)

اور غُرور (بضم الغین) دھوکہ اور فریب کو کہتے ہیں
قرآن کریم میں اس کی مثال ہے
وما الحَياةُ الدُّنيا إِلّا مَتاعُ الغُرور
اور دنیا کا سامان تو نرا دھوکہ ہے

لہذا خوب یاد رکھیں کہ غَرور کا معنی دھوکہ دینے والا
اور غُرور کا معنی دھوکہ ہے
تاج العروس میں اسے یوں حل فرمایا

الغَرور کالصَبور
غرور صبور کی طرح ہے یعنی وزن اور فاعلیت کا معنی دینے میں دونوں ایک جیسے ہیں
صبور کا معنی صبر کرنے والا اور غرور کا معنی دھوکہ دینے والا ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top