مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 30
عربی میں احد اور واحد کا معنی ظاہری طور پر ملتا جلتا ہے
مگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو بہت فرق ہے
اسی فرق سے واضح ہو جاتا ہے کہ سورہ اخلاص میں الله رب العالمین نے
قل ھو الله احد فرمایا
واحد نہیں فرمایا
اس کی چند وجوہات جو علماء کرام نے بیان کی ہیں ہم ناقص علم کے مطابق آسان بیان کرتے ہیں
(1) واحد سے آگے مزید عدد بنتا ہے اثنان 2 ثلاثۃ 3 وغیرہ
جبکہ احد کا آگے عدد نہیں بنتا
(2) واحد کی مؤنث ہو سکتی ہے جسے واحدۃ کہتے ہیں
جبکہ احد کی مؤنث نہیں ہو سکتی
(3) واحد بطور صفت کسی کے لیئے بھی استعمال ہو سکتا ہے مثلا رجلٌ واحدٌ
جبکہ احد صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے الله احد کہا جاتا ہے رجل احد نہیں کہا جاتا
(4) واحد اجزاء میں تقسیم ہو سکتا ہے مثلا آدھا تہائی یا چوتھائی
جبکہ احد اجزاء میں تقسیم نہیں ہوسکتا احد کا مطلب بس ایک ہی ہوتا ہے
(5) واحد مطلق نفی کا فائدہ نہیں دیتا مثلا ما ضربت واحدا میں ایک نے کو نہیں مارا تو یہاں صرف ایک کی نفی ہے ممکن ہے دو یا تین کو مارا ہو
جبکہ احد مطلق نفی کرتا ہے ما نصرت احدا میں نے کسی ایک کی بھی مدد نہیں کی
یہاں تمام کی نفی ہے
(6) واحد ذوی العقول اور غیر ذوی العقول سب کے لیئے استعمال ہوتا ہے رجلٌ واحدٌ
غیر عاقل کے لیئے قلم واحدٌ کہا جاتا ہے
جبکہ احد صرف ذوی العقول کے لیئے بولا جاتا ہے لہذا جمل احد نہیں کہا جا سکتا
(7) واحد اسم فاعل کا صیغہ ہے جبکہ احد صفت مشبہ کا صیغہ ہے
صفت شبہ اسم فاعل سے قوی ہوتا ہے
یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے صرف ایک لفظ سے علوم کے دریا ظاہر فرما دیئے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
