طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 65
دورانِ طالبِ علمی شادی کے چکروں سے دور رہیں
سیدی سفیان ثوری نے فرمایا
مَن٘ تَزَوَّجَ فَقَدْ رَكِبَ الْبَحْرَ فَإِذَا وُلِدَ لَهُ فَقَدْ كُسِرَ بِهِ
جس نے شادی کی گویا وہ کشتی میں سوار ہوگیا اور جب اس کی اولاد ہوگئی گویا وہ کشتی ٹوٹ گئی
{تذكرة السامع و المتكلم لابن جماعة}
کشتی کے ڈوبنے کا ہر وقت ڈر رہتا ہے ایسے ہی شادی شدہ رشتہ ہوتا ہے
طالبِ علمِ دین کو تکمیلِ علومِ اسلامیہ سے پہلے شادی نہیں کرنی چاہیئے
خطیب بغدادی فرماتے ہیں
طالبِ علمِ دین کو جہاں تک ممکن ہو کنوارا رہنا مستحب ہے
اگر یہ شادی کر لے تو ہر وقت کشتی کے ڈوبنے کے ڈر جیسا ڈر رہتا ہے اور علمِ دین کی طلب کی شدت کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے علوم کی پختگی ختم ہو کے رہ جاتی ہے
سیدی عمر فاروق اعظم کا فرمان ہے
تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا
سردار بنائے جانے سے پہلے فقہ حاصل کرو
یعنی شادی سے پہلے علم حاصل کرو
کیونکہ شادی کی ذمہ داریوں کے سبب یکسوئی سے علم حاصل نہیں کیا جا سکتا
لہذا طالبِ علمِ دین کو ہر اس کام سے دوری اختیار کرنی چاہیئے جو اس کی یکسوئی میں خلل ڈالے
موبائل سوشل میڈیا علماء کے اختلافی معاملات ` سیاسی معاملات یہ سب ایک طالبِ علمِ دین کے دل و دماغ میں بھونچال برپا رکھتے ہیں
اسی سبب علوم کی پختگی سے موجودہ طالبِ علم محروم رہتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
