طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 49
عربی کا مقولہ ہے
المعاصرة سبب المنافرة
ہم عصر ہونا باہم نفرت کا سبب ھے
یہ محاورہ علماءِ ظاہر کے بارے استعمال کیا جاتا ھے اور اکثر یہ سچا ہوتا ھے کہ ایک زمانے کے علماء باہم کم ہی محبت رکھتے ہیں ورنہ تنقید و اعتراض کی صورت منافرت کا اظہار کرتے ہیں
مگر علماءِ باطن یعنی صوفیاء کرام کے بارے ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ ان میں منافرت ہو
“””اگر آنے والا چھوٹا ھے تو تربیت کرتے ہیں بڑا ہو تو کسبِ فیض کیا جاتا ھے”””
عرب کے مشہور عالم علامہ صابونی جن کی پیدائش 1930 میں شام کے اندر ہوئی اور وفات 2021 میں ترکی میں ہوئی باجود خود بہت بڑے عالم تھے وقت کے ماہر قرآن تھے مگر ان کا مصر کے مشہور عالم علامہ شعراوی سے محبت کا انداز انوکھا تھا
علامہ شعراوی کی پیدائش 1911 مصر میں اور وفات 1998 میں ہوئی
° جب علامہ شعراوی کا درسِ قرآن ٹی وی پر آن ائیر ہوتا تو شیخ صابونی کرسی سے اتر کر زمین پر دو زانوں یوں بیٹھتے تھے جیسے طالب علم استاذ کے سامنے بیٹھتا ھے °
اور دورانِ درس بالکل خاموشی سے بیٹھتے اور گھر والوں کو پابند کیا ہوا تھا کہ اس دوران کوئی بات نہیں کرے گا
اگر کوئی بات کرتا تو اسکو تیز نگاہ سے گھور کر منع کرتے تھے
شیخ صابونی کے بیٹے شیخ انس کہتے آپ کرسی پر کیوں نہیں بیٹھتے؟
علامہ شعراوی تو آپ کے سامنے نہیں ہیں وہ چینل پر ہیں
آپ بھی مفسرِ قرآن ہیں وہ بھی مفسرِ قرآن ہیں پھر اتنا اہتمام کیوں؟
شیخ صابونی کہتے
اے میرے بیٹے علمِ تفسیر اللہ رب العزت نے مجھے اساتذہ سے سیکھنے پر عطاء فرمایا ہے جبکہ شیخ شعراوی کو بطور الہام عطاء فرمایا ھے
ہمارے ہاں اولاً تو باہم علماء کے ادب کا تصور نہیں اگر ہے تو اھل عرب سے بہت پیچھے
اھل عرب آج بھی باہم ملاقات میں ایک دوسرے کے ہاتھ چومتے ہیں مگر ہمارے ہاں بمشکل دو ہاتھ سے مصافحہ کیا جاتا ھے
طالبِ علمِ دین یا مرید استاذ و پیر سے ادب و احترام کرنے کی مقدار کی فیض پاتا ھے
یہ ادب علم و فقہ کی وہ منازل طے کروا دیتا ھے جو مسلسل محنت و شبِ بیداری سے حاصل نہیں ہوتیں
استاذ و پیر جہاں ہوں ان کا ادب علم و روحانیت کے لیئے سب سے اہم ہے
دینی علوم کا استاذ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری شریعت میں نائب ہے
اور مرشد کامل باطنی شریعت میں نائب ہے
لہذا ان دو ہستیوں کا ادب اصل کے ادب کی وجہ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
