طوفان میں میٹھی نیند

تصوف_وصوفیاء 21

سمندر میں شدید طوفان آگیا بحری جہاز غرق ہونے کے قریب تھا 
سیدی ابراھیم بن ادھم رضی اللہ عنہ نے چہرے پہ رومال رکھا اور سونے کے لیئے لیٹ گئے
لوگوں نے کہا آپ عجیب انسان ہیں ہم غرق ہونے والے ہیں اور آپ سونے لگے ہیں 
اتنی شدت میں نیند کیسے آئے گی؟؟؟
آپ نے فرمایا یہ شدت تو نہیں ہے
لوگوں نے کہا اور  شدت کیسی ہوتی ہے؟؟؟

فرمایا
بندہ بندوں کا محتاج ہو جائے  وہ شدت ہوتی ہے 

پھر عرض کرنے لگے
اے مالک و مولا تو نے ہمیں اپنی قدرت کی جھلک دکھلا دی ہے اب اپنے عفو و کرم کا نظارہ بھی کروا دے

یہ کہنا تھا کہ سمندر بالکل پرسکون ہوگیا گویاکہ کچھ ہوا ہی نہ ہو

اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ ہو تو خزاں بہار سے بدل جاتی ہے
ہلاک کرنے والی شے ہی زندگی کی محافظ بن جاتی ہے
آگ ٹھنڈا کرتی
پانی ڈوبنے نہیں دیتا
جان کے دشمن جان کے محافظ بن جاتے ہیں
بھروسہ رکھیں کہ الله رب العزت پر بھروسہ کرنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا 
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top