امت کی اکثریت حنفی ہے

تصوف_وصوفیاء 22

اگر ابو حنیفہ بنی اسرائیل میں ہوتے

تنویر الابصار  میں امام تمرتاشی  نے فرمایا

امام  ابو حنیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں

سیدنا عیسی علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام   امام ابو حنیفہ کے مذہب کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے

اس پر علامہ شامی  نے لکھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کسی کی پیروی نہیں کریں گے

بلکہ وہ خود مجتہد ہوں گے جب وہ کسی مسئلے کا اجتہاد کریں گے وہ ابو حنیفہ کے اجتہادی مسئلے کی تائید کرتا ہوگا

ورنہ عیسی علیہ السلام تو نبی ہیں جو صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوں گے

لیکن اس سے امام ابو حنیفہ کی شان واضح ضرور ہوتی ھے کہ ان کا اجتہاد ایک نبی کے اجتہاد کے ساتھ موافقت رکھتا ہے
امت کے اکثر افراد حنفی ہیں اکثر اولیاء حنفی ہیں, اکثر فقہاء حنفی ہیں, اکثر قضاۃ حنفی ہیں
مسلمانوں کی طویل ترین سلطنت عثمانیہ کے سلاطین بھی حنفی تھے اور وہ دنیا بھر کے جو قاضی القضاۃ {چیف جسٹس{ لگاتے وہ بھی حنفی ہوا کرتا ھے
آپ کہ سکتے ہیں تقریبا سات سو سال تک احناف نے سلطنت اسلامیہ کی رہنمائی کی ہے
امام اعظم ابو حنیفہ ائمہ اربعہ میں منفر و ممتاز شان والے امام ہیں
امام اجل عارف باللہ عبد الوھاب الشعرانی  نے میزان شریعہ کبری میں فرمایا
تمام ائمہ مجتہدین اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے وہ انکو تمام مصیبتوں میں دیکھ رہے ہوتے ہیں, دنیا, برزخ,قیامت کے دن حتی کہ پل صراط پر اپنے متبعین کو دیکھیں گے
کیونکہ قیامت تک لوگ ان چاروں ائمہ کی اتباع کرنے والے ہیں لہذا ان کا مقام دوسرے علماء سے جدا ھے اور یہ حضرات حقیقی معنوں میں عالم ہیں اور ان میں امام ابو حنیفہ اعظم ہیں
تنبیہ الغافلین  میں حدیث پاک ہے
  العلماءُ أمناءُ الرسلِ على العبادِ ما لم يخالِطوا السلطانَ
علماء بندوں پر رسولوں کے امین ہیں جب تک علماء بادشاہ سے میل جول نہ رکھیں
علماء انبیاء کرام کے وارث بھی تبھی قرار پاتے ہیں جب حبِ دنیا سے پاک دل والے ہوں حبِ جاہ و منصب کی طمع نہ رکھتے ہوں ورنہ تو دنیا کے کتے ہیں
علماء ہرگز نہیں
جیسا کہ مولا علی کا فرمان  ھے
الدنیا جیفۃ و طالبھا کلاب فمن ارادھا فلیصبر علی مخالطۃ الکلاب
دنیا ایک مردار ہے اور اس مردار کو چاہنے والا کتا ھے تو جو اس مردار کی خواہش رکھتا وہ کتوں سے میل جول پر صبر کرے
اور امام اعظیم دنیا اور دنیا داروں سے کوسوں دور رہنے والے ہیں
یہی وجہ جب آپ کو قاضی کا منصب دیا جانے لگا تو آپ نے جیل جانا منظور کیا مگر وہ منصب قبول نہیں کیا اس کے باجود آپ حاکمِ وقت کی اطاعت واجب جانتے تھے 
جیسا کہ امام شعرانی  نے میزان نے لکھا کہ خلیفہ منصور  نے آپ کو فتوی دینے سے روک دیا, رات کے وقت آپ کی بیٹی نے مسئلہ پوچھا,دانت سے خون نکلنے سے وضوء ٹوٹ جائے گا؟
امام اعظم نے فرمایا میرے امام یعنی خلیفہ وقت نے مجھے فتوی دینے سے روک دیا ہے تو میں دن میں اس کی بات مانوں اور رات کو نافرمانی کیوں کروں
لہذا کل یہ مسئلہ اپنے چچا حماد سے پوچھ لینا
عبد اللہ بن مبارک  فرماتے ہیں میں کوفہ آیا تو لوگوں سے پوچھا یہاں سب سے بڑے عالم کون؟
لوگوں نے کہا ابو حنیفہ
پوچھا سب سے زیادہ متقی کون؟
لوگوں نے کہا ابو حنیفہ؟
پوچھا سب سے زیادہ عابد کون؟
لوگوں نے کہا ابو حنیفہ
فرمایا
میں نے جس بھی اچھی عادت کے بارے پوچھا سب نے امام ابو حنیفہ کا نام لیا
امام اعظم کا علم,عمل,تقوی,اخلاق, خدمتِ دین,اخلاص سب سے ممتاز تھا اسی وجہ سے آپ کا اجتہاد فطرتِ سلیمہ کے قریب ہوتا تھا  اور اسی وجہ سے آپ کا اجتہاد سیدنا عیسیٰ علیہ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے اجتہاد کے موافق ہوگا

حنفی مذہب انسانی فطرت کے قریب ہے
اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی مذاہب گمراہ ہیں
سب ائمہ اکابر اولیاء کرام میں سے تھے
سب امت کے رہنماء اور حق پر تھے
اسلام نے جو رہن سہن کا طریقہ بتایا ہے اس میں ان چاروں کا اختلاف ہے عقیدے میں ذرہ اختلاف نہیں
ایک درخت کی چار شاخیں ہیں لہذا کسی احمق کی گمراہ کن باتوں میں نہ آئیں کہ ان میں اتحاد نہیں ہے

شافعی مالک احمد امامِ حَنیف
چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام

سیدنا سھل تستری  کا فرمان ہے
لو كان في أمتي موسى وعيسى مثل أبي حنيفة لما تهودوا ولما تنصروا
اگر سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسی علی نبینا و علیھما السلام کی امت میں ابو حنیفہ جیسا عالم ہوتا تو وہ امت یہودی اور عیسائی نہ ہوتی  یعنی وہ مسلمان ہی رہتے جیسا کہ اللہ رب العزت نے مسلمان نام رکھا ھے
اگر ابو حنیفہ ہوتے تو ان کو منع دلائل سے منع کرتے کہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں عزیر علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں اور فرشتے اللہ کے بندے ہیں
اللہ رب العزت اولاد سے پاک ہے
امام ابو حنیفہ کے مناقب بے شمار اور آپ کے دشمنوں پر اللہ کی مار
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top